انوار خلافت — Page 31
حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے کے متعلق پہلا ثبوت: اول اس طرح کہ آپ کا نام آپ کے والدین نے احمد رکھا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کے والد صاحب نے آپ کے نام پر گاؤں بسایا ہے اس کا نام احمد آبا درکھا ہے۔اگر آپ کا نام غلام احمد رکھا گیا تھا۔تو چاہئے تھا کہ اس گاؤں کا نام بھی غلام احمد آباد ہوتا۔اسی طرح آپ کے بھائی کے نام پر بھی ایک گاؤں بسایا گیا ہے جس کا نام قادر آباد ہے حالانکہ ان کو غلام قادر کہا جاتا تھا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نام بھی قادر تھا۔اور دونوں بھائیوں کے نام سے پہلے غلام صرف ہندوستان کی رسم وعادت کے طور پر زیادہ کر دیا گیا تھا۔ہندوستان میں یہ رسم چلی آتی ہے کہ لوگ مرکب نام رکھتے ہیں۔حالانکہ ان مرکب ناموں کا کوئی معنی اور کوئی مطلب نہیں ہوتا۔مثلا بعض کا نام محمد احمد محمد علی وغیرہ رکھ دیتے ہیں حالانکہ ان ناموں کے کوئی معنی نہیں محمد ایک الگ نام ہے اور احمد یا علی ایک علیحدہ نام ہے۔ان دونوں کے ملانے سے کوئی جدید فائدہ حاصل نہیں ہوتا صرف نام لمبا ہو جاتا ہے اور اسی غرض کے لئے یہ الفاظ بڑھائے جاتے ہیں ورنہ ان دونوں ناموں میں سے ایک ہی نام در حقیقت اصل نام ہوتا ہے۔حضرت صاحب کے خاندان میں بھی غلام کا لفظ سب ناموں کے پہلے بڑھایا جاتا تھا آپ کے والد کا نام غلام مرتضیٰ تھا۔چوں کا نام غلام حیدر۔غلام محی الدین تھا۔اسی طرح آپ کے نام کے ساتھ غلام بڑھایا گیا۔ورنہ آپ کا نام احمد ہی تھا۔جیسا کہ آپ کے والد کی اپنی شہادت موجود ہے کہ انہوں نے آپ کے نام پر جو گاؤں بسایا اس کا نام احمد آباد رکھا نہ کہ غلام احمد آباد اور غلام احمد اگر مرکب نام تسلیم کرو تو یہ توکسی زبان کا نام نہیں عربی زبان میں یہ نام غلام احمد ہونا چاہئے تھالیکن یہ آپ کا نام نہ تھا فاری ترکیب لوتو’ غلام احمد ہونا چاہئے تھا لیکن آپ کا نام یوں بھی نہیں۔کیونکہ آپ کے نام میں