انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 193

انوار خلافت — Page 30

اگر بعد کا لفظ حضرت مسیح نے استعمال کیا تو اس میں کیا حرج ہوا اس کے سوا اور کون سا لفظ ہے جو وہ استعمال کر سکتے تھے۔اگر حضرت مسیح موعود حضرت مسیح ناصری سے پہلے ہوتے یا ان کے 60 وقت میں ہوتے تب بے شک بعد کے لفظ سے آپ کے خلاف حجت ہو سکتی تھی۔لیکن جبکہ وہ واقعہ میں بعد میں ہیں تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح نے یہ فرمایا ہے کہ وہ رسول ان کے بعد ہوگا۔اس سے صرف اتنا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ آپ کی زندگی میں نہیں آئے گا بلکہ بعد وفات آئے گا۔اور یہ نتیجہ ہر گز نہیں نکل سکتا کہ وہ فوراً بعد آئے گا۔اور پھر فوراً بعد تو رسول کریم سی سی کی یہ بھی کہاں ہوئے۔آپ تو چھ سو سال کے بعد ہوئے تھے اور اگر کہو کہ یہ شرط ہے کہ رسول ہونے کے لحاظ سے وہ فورابعد ہی ہو اور یہ صرف رسول کریم سایہ ہم میں ہی پائی جاتی ہے تو میں کہتا ہوں کہ ہمارا حق ہے کہ ہم کہیں کہ رسول ہونے کے لحاظ سے نہیں بلکہ احمد ہونے کے لحاظ سے فوراًبعد کہا ہے یعنی جس رسول کی میں خبر دیتا ہوں یہ احمد نام کے لحاظ سے سب سے پہلا ہوگا پس جس سب سے پہلے رسول کا نام احمد ثابت ہو جائے اس کی نسبت یہ پیشگوئی تسلیم کرنی پڑے گی غرض اگر شرائط ہی بڑھانی ہوں تو دوسرا فریق بھی حق رکھتا ہے کہ شرائط بڑھائے اور اگر لغت عرب کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو بھی ہماری بات کو رد کرنے کی کسی مخالف کے پاس کوئی وجہ نہیں حضرت مسیح نے بعد کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔اور حضرت مسیح موعودان کے بعد ہی ہیں۔نہ ان سے پہلے نہ ان کے زمانہ میں۔اب میں اس بات کا ثبوت قرآن کریم سے پیش کرتا ہوں کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہی ہو سکتے ہیں نہ اور کوئی۔پہلی دلیل پہلی دلیل آپ کے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے کی یہ ہے کہ آپ کا نام احمد تھا اور آپ کا نام احمد ہونے کے مفصلہ ذیل ثبوت ہیں: