انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 193

انوار خلافت — Page 146

۱۴۶ ہونا ظاہر کر دیں پتھر مار مار کر صحابہ کو مسجد سے باہر نکال دیا اور اس کے بعد حضرت عثمان " پر پتھر پھینکنے شروع کئے جن کے صدمہ سے وہ بیہوش ہو کر زمین پر جا پڑے۔جس پر بعض لوگوں نے آپ کو اٹھا کر آپ کے گھر پہنچا دیا۔جب صحابہ کو حضرت عثمان کا حال معلوم ہوا تو باوجود اس بے بسی کی حالت کے ان میں سے ایک جماعت لڑنے کے لئے تیار ہو گئی۔جن میں ابوہریرہ ، زید بن ثابت کا تب رسول کریم ال ای ایم اور حضرت امام حسن بھی تھے۔جب حضرت عثمان کو اس بات کا علم ہوا۔تو آپ نے انکو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ جانے دو اور ان لوگوں سے جنگ نہ کرو۔چنانچہ بادل ناخواستہ یہ لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے اور حضرت علی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے آپ کے گھر پر جا کر اس واقعہ کا بہت افسوس کیا۔اس واقعہ کے بعد بھی حضرت عثمان نماز پڑھاتے رہے لیکن محاصرہ کے تیسویں دن مفسدوں نے آپ کو نماز کے لئے نکلنے سے بھی روک دیا۔اور اہل مدینہ کو بھی دق کرنا شروع کیا۔اور جو شخص ان کی خواہشات کے پورا کرنے میں مانع ہوتا اسے قتل کر دیتے اور مدینہ کے لوگوں میں کوئی شخص بغیر تلوار لگائے کے باہر نہ نکل سکتا کہ کہیں اس کو یہ لوگ ایذاء نہ پہنچا ئیں۔انہی دنوں میں کہ حضرت عثمان ” خود نماز پڑھاتے تھے۔آخری جمعہ میں آپ نماز پڑھانے لگے تو ایک خبیث نے آپ کو گالی دے کر کہا کہ اتر منبر سے اور آپ کے ہاتھ میں رسول کریم ساینی پیام کا عصا تھا وہ چھین لیا اور اسے اپنے گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ سزادی کہ اس کے گھٹنے میں کیڑے پڑ گئے۔اس کے بعد حضرت عثمان صرف ایک یا دو دفعہ نکلے۔پھر نکلنے کی ان باغیوں نے اجازت نہ دی۔ان محاصرہ کے دنوں میں حضرت عثمان نے ایک شخص کو بلوایا اور پوچھا کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔اس نے کہا کہ دو باتوں میں سے ایک چاہتے ہیں یا تو یہ کہ آپ خلافت ترک کر دیں اور یا یہ کہ آپ پر جو الزام لگائے جاتے ہیں ان کے بدلہ میں آپ سے قصاص لیا جائے۔اگر ان دونوں باتوں میں سے آپ