انوار خلافت — Page 147
۱۴۷ ایک بھی نہ مانیں گے تو یہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے۔آپ نے پوچھا کہ کیا کوئی اور تجویز نہیں ہوسکتی۔اس نے کہا نہیں۔اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔اس پر آپ نے فرمایا۔کہ خلافت تو میں چھوڑ نہیں سکتابی قمیض خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے اسے تو میں ہرگز نہیں اتاروں گا۔مجھے اپنا قتل ہونا اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں خدا تعالی کی پہنائی ہوئی قمیض کو اتار دوں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑنے مرنے دوں۔باقی رہا قصاص کا معاملہ۔سو مجھ سے پہلے دونوں خلیفوں سے کبھی ان کے کاموں کے بدلہ میں قصاص نہیں لیا گیا۔باقی رہا یہ کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے سو یا د رکھو کہ اگر وہ مجھے قتل کر دیں گے تو اس دن کے بعد سب مسلمان کبھی ایک مسجد میں نماز نہیں ادا کریں گے اور کبھی سب مسلمان مل کر ایک دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔اور نہ مسلمانوں کا اتحاد قائم رہے گا۔(چنانچہ تیرہ سو سال کے واقعات اس قول کی صداقت پر شہادت دے رہے ہیں )۔تاریخ طبری جلد ۶ صفحه ۲۹۹۰ مطبوعہ بیروت) اس کے بعد مفسدوں نے حکم دے دیا کہ کوئی شخص نہ حضرت عثمان کے پاس جا سکے نہ اپنے مکان سے باہر نکل سکے۔چنانچہ جب یہ حکم دیا تو اس وقت ابن عباس اندر تھے جب انہوں نے نکلنا چاہا تو لوگوں نے ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہ دی۔لیکن اتنے عرصہ میں محمد بن ابو بکر آگئے اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ ان کو جانے دو۔جس پر انہوں نے انہیں نکلنے کی اجازت دے دی۔اس کے بعد محاصرہ سخت ہو گیا اور کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہ دی جاتی۔حتی کہ حضرت عثمان اور آپ کے گھر والوں کے لئے پانی تک لے جانے کی اجازت نہ تھی اور پیاس کی شدت سے وہ سخت تکلیف اٹھاتے تھے۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو حضرت عثمان نے اپنی دیوار پر چڑھ کر اپنے ایک ہمسایہ کے لڑکے کو حضرت علی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور امہات المؤمنین کے پاس بھیجا کہ ہمارے لئے پانی کا کوئی رض