انوار خلافت — Page 145
۱۴۵ جھوٹے گواہ بنا لینے کچھ مشکل نہ تھے لیکن ان کا اس بات سے عاجز آجانا بتاتا ہے کہ مدینہ میں سے دو آدمی بھی ان کے ساتھ نہ تھے (سوائے ان تین آدمیوں کے جن کا ذکر پہلے کر چھ ہوں مگر ان میں سے محمد بن ابی بکر تو ان لوگوں کے ساتھ تھے۔مدینہ میں نہ تھے اور صرف عمار اور محمد بن ابی حذیفہ مدینہ میں تھے لیکن یہ دونوں بھی نیک آدمی تھے اور صرف ان کی فریب دینے والی باتوں کے دھوکے میں آئے ہوئے تھے ) اور یہ لوگ اپنے میں سے گواہ نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ یہ لوگ مدینہ میں موجود نہ تھے ان کی گواہی قابل قبول نہ تھی۔گو ہر طرح ان لوگوں کو ذلت پہنچی لیکن انہوں نے اپنی کارروائی کو ترک نہ کیا اور برابر مدینہ کا محاصرہ کئے پڑے رہے۔شروع شروع میں تو حضرت عثمان کو بھی اور باقی اہل مدینہ کو بھی مسجد میں نماز کے لئے آنے کی اجازت انہوں نے دے دی تھی۔اور حضرت عثمان بڑی دلیری سے ان لوگوں میں آکر نماز پڑھاتے لیکن باقی اوقات میں ان لوگوں کی جماعتیں مدینہ کی گلیوں میں پھرتی رہتیں اور اہل مدینہ کو آپس میں کہیں جمع ہونے نہ دیتیں تا کہ وہ ان پر حملہ آور نہ ہوں۔جب جمعہ کا دن آیا تو حضرت عثمان جمعہ کی نماز کے لئے مسجد نبوی میں تشریف لائے اور منبر پر چڑھ کر فرمایا کہ اے دشمنانِ اسلام ! مدینہ کے لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی شما اینم نے تمہاری نسبت پیشگوئی کی ہے اور تم پر لعنت کی ہے پس تم نیکیاں کر کے اپنی بدیوں کو مٹاؤ۔کیونکہ بدیوں کو سوائے نیکیوں کے اور کوئی چیز نہیں مٹاتی۔اس پر محمد بن سلمہ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں لیکن حکیم بن جبلہ (وہی چور جس کا ذکر پہلے آچکا ہے ) نے ان کو بٹھا دیا۔پھر زید بن ثابت کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا مجھے قرآن کریم دو ( ان کا منشاء بھی ان لوگوں کے خلاف گواہی دینے کا تھا ) مگر باغیوں میں سے ایک شخص نے ان کو بھی بٹھا دیا اور پھر اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو صحابہ اسی طرح گواہی دے دے کر ہمارا ملعون اور خلاف قرآن امور پر عامل