اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 306 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 306

306 کا شیر کھڑا ہوا۔آپ نے فرمایا کہ میں کوئی مقدمہ نہیں کرنا چاہتا۔میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اشتہار دیا اور فرمایا کہ مقدمہ تو ختم ہو گیا ہے۔لیکن مارٹن کلارک نے اپنے بیانوں میں بار بار کہا ہے کہ یہ حکومت کا باغی ہے اور باوجودیکہ مجھے بری قرار دیا گیا ہے۔اس کے اثرات میں دیکھ رہا ہوں کہ پادری اور ان جیسے، میں نے بیان بھی کیا ہے۔اس زمانے میں خود مولوی محمد حسین بٹالوی نے صاف لکھا کہ مہدی قادیانی مہدی سوڈانی سے زیادہ خطرناک ہے اور کہا کہ یہ در پردہ صرف طاقت کے اکٹھا ہونے کے انتظار میں ہے۔پھر مسیح موعود علیہ السلام کو خیال آیا کہ عیسائیوں کی حکومت ہے۔عیسائی پادری ہے۔پادریوں کے پیچھے امریکہ اور برطانیہ کے لشکر ہیں۔حکومت کروڑوں کھربوں پاونڈ اور ڈالرخرچ کر رہی ہے کہ کسی طرح ہندوستان کو عیسائی بنالے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈاکٹر کلارک اندر ہی اندر بغاوت کے نام پر ایک اور تحریک اٹھا دے۔تو یہ بیک گراؤنڈ (Background) تھا جس پر حضوڑ نے لکھا۔آپ نے فرمایا کہ میں یہ بیچ بتانا چاہتا ہوں۔جس طرح وکیل ایک کیس پیش کرتا ہے تو اس کے ڈیفنس میں ڈاکومنٹ پیش کرتا ہے تو آپ نے یہ ڈاکومنٹ پیش کئے۔اور فرمایا کہ اس سے ثابت ہے کہ میرا خاندان خود کاشتہ پودا ہے، سنی خاندان اور اس کے ثبوت کے طور پر اپنے والد کے نام خطوط بیان کئے ہیں۔اس کا آپ کے ساتھ تعلق نہیں۔1858ء میں کون سی جماعت احمدیہ تھی جس کے خود کاشتہ پودہ ہونے کا اعلان کیا جا سکتا تھا۔تو وہ الفاظ دراصل اس خاندان کے متعلق تھے جوشنی خاندان تھا۔جس کے بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب تھے اول نمبر پر۔پھر آپ کے بڑے بھائی تھے ، حضرت مرزا غلام قادر صاحب۔تو یہ ان کی طرف اشارہ ہے۔تو یہ جو دونوں چٹھیاں ہیں، سفارشیں ہیں یہ دونوں لاہور سے گئیں ولسن کی طرف سے اور رابرٹ کی طرف سے اور دونوں میں ان کی خدمات کو سراہا گیا تھا۔اور یہ خود پروف پیش کئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے براہین احمدیہ کے ریویو میں۔اسی کو حضور نے پیش کیا ہے اور مرادستی خاندان ہے۔الہام کی زبان ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اٹارنی جنرل صاحب نے یہ ایک سوال کیا تھا کہ یہ ایک