اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 307 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 307

307 بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔یہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک حوالہ پیش کر کے کہا اور اس سے ان کا تمسخر کا خیال تھا کہ حضور کو بعض ایسے الہام بھی ہوئے جو کسی اور زبان میں تھے جس کو کہ حضور سمجھ نہیں سکتے تھے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے نہایت پر شوکت انداز میں یہ جواب دیا کہ یہ حوالہ ”چشمہ معرفت سے ہے اور چشمہ معرفت“ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ 1908ء کے آغاز میں چھپی ہے۔آریہ سماج کے مندر میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون بھی پیش کیا گیا تھا۔اس دوران ہندوؤں نے اسلام اور بانی اسلام کو جو گالیاں دی تھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چشمہ معرفت ان کا جواب دیا ہے۔حضور کے مخاطب آر یہ ہیں اور آریوں کا عقیدہ جو ہے ، حضور کا جواب سنانے سے پہلے اسے میں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس جواب کو آپ زیادہ نمایاں طور پر سمجھ سکیں۔آر یہ کہتے ہیں کہ اس یو نیورس یا کائنات کے آغاز میں جس طرح کہ ایک سورج یہ کام کر رہا ہے تو ایک شریعت نازل کی گئی ویدوں کی شکل میں۔رگ وید ہے۔اتھرو ید ہے۔سام دید ہے۔یجروید ہے۔اور یہ نسکرت کی زبان میں نازل ہوئے اور سنسکرت زبان وہ تھی جو خدا کی زبان تھی۔اور جن رشیوں پر نازل ہوئے وہ بھی یہ زبان نہیں جانتے تھے۔آریہ سماج کا یہ عقیدہ ہے کہ عربی زبان جس میں قرآن نازل ہو، یہ تو لوگ جانتے تھے۔مگر دیدوں کو یہ نقدس حاصل ہے کہ ویدوں کی زبان وہ تھی جو دنیا کے لوگ جانتے ہی نہیں تھے ،صرف خدا ہی جانتا تھا۔اس پس منظر میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا جواب سنیئے۔فرمایا :- حوالے کے سیاق وسباق سے پوری طرح عیاں ہے کہ یہاں ملہم کا ذکر نہیں۔بلکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آریوں کے اس عقیدے پر تقریر فرمارہے ہیں کہ الہامی کتاب اس زبان میں نازل ہونی چاہئے جو کسی انسان کی زبان نہ ہو بلکہ خدا کی اور ایشور کی زبان ہو اور اسی لئے وید نازل کئے گئے خدا کی زبان میں۔جس کو کہ رشی اور منی نہیں جانتے تھے۔حضور اس پر تنقید کر رہے ہیں کہ یہ تو بے عقلی کی بات ہے کہ ایسی زبان میں الہام ہو کہ انسان بھی نہ جانتا ہو اس کو۔اور یہ تکلیف مالا يطاق بھی ہے اور بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے۔