اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 160 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 160

160 کے پاس محفوظ ہیں۔تو میں یہ چاہوں گا کہ محمدی بیگم کے حوالے سے جو مقالہ وہاں پیش کیا گیا اس کے کچھ نکات ناظرین کے سامنے پیش فرما دیں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب : یہ بہت ہی ضروری اور اہم سوال ہے۔اس مقالہ میں بنیادی بات یہ پیش کی گئی ہے کہ محمدی بیگم کے نکاح کا معاملہ دراصل عشق رسول کا ایک شاہکار ہے۔اور یہ نہیں ہے کہ جس طرح کہ ملاں لوگ اپنے ذوق کی تسکین کے لئے اور بدنامی کے لئے اس کو ایک معاشقہ کی شکل دیتے ہیں جس طرح کہ آنحضور کے خلاف بد باطن مستشرقین کا طریقہ ہے۔ان حضرات پر حیرت آتی ہے کہ دعوئی تو اسلام کا ہے مگر آپ حیران ہوں گے کہ جن نبیوں کو وہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا کے پاکباز نبی تھے، ان کی طرف معاشقہ منسوب کرتے ہوئے کبھی ذرہ شرم و حیا نہیں محسوس ہوتی اور تفسیر کی کتابیں اب تک پڑھائی جارہی ہیں۔حضرت یوسف پر الزام ہے زلیخا کا۔یہاں تک لکھا ہے کہ اللہ کی طرف سے جب اختباہ کیا گیا تو تب قصہ ختم ہوا۔ورنہ حضرت یوسف علیہ السلام تو آخری حدوں پر پہنچے ہوئے تھے۔تصور کریں حضرت داؤڈ کے متعلق لکھا ہے کہ ننانوے بیویاں تھیں، اور یا ایک افسر تھا اس کی بیوی کو انہوں نے محل کے جھروکے سے دیکھ لیا اور خاوند کولڑائی میں بھجوا دیا اور بعد میں اس سے شادی کر لی۔سب سے بڑھ کر خود محمد عربی ﷺ کی ذات کو ان ظالموں نے نشانہ بنایا ہے۔بیضاوی میں یہ روایت موجود ہے اور اس کو پڑھایا جاتا ہے کہ معاذ اللہ، معاذ اللہ آنحضرت علﷺہ ایک دفعہ اپنی پھوپھی زاد بہن زینب کے پاس گئے اور زید، ان کا خاوند موجود نہیں تھا۔تو ان کا سفید چہرہ دیکھ کر فوراً انہوں نے دعا کی۔یا مقلب القلوب اے کاش اس کی محبت کا رخ میری طرف ہو جائے۔اللہ نے اسی وقت الہام کیا کہ تم بغیر کسی نکاح کے ان سے تعلق قائم کر سکتے ہو اور پھر یہ قرآن میں نازل کیا گیا۔یہ ساری کی ساری انتہائی خیث نہ تفسیر بیضاوی میں موجود ہے۔( تفسیر سورہ الاحزاب الجزء الرابع صفحہ 232 ناشر مؤسسة التاريخ العربی بیروت) چونکہ ضیاء الحق پکا احراری تھا، جب اس نے سیرت کانفرنس منعقد کی۔احمدیوں کو تو علیحدہ رکھا جنہوں نے کہ سیرت النبی کے جلسوں کا آغاز کیا تھا۔جماعت احمدیہ ہی ہے تمام دنیا میں پہلی جماعت۔پہلے تو میلاد کے جلوس نکلتے تھے۔قوالیاں ہوتی تھیں اور اب بھی ہوتی ہیں مگر سیرت النبی کے