اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 159 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 159

159 ملی ہے۔تو حضور ایک کتاب لکھ رہے تھے تو حضرت مسیح موعود نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ بس جو نہی یہ کتاب ختم ہوگی، میں حاضر ہو جاؤں گا۔اب عجیب بات یہ ہے کہ ”پیغام صلح جب ختم ہوئی، چند گھنٹوں کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام محمد مصطفی ﷺ کے دربار میں پہنچ گئے۔اور عجیب بات ہے کہ موجودہ تحقیق ” تاریخ احمدیت‘ ( جلد دوم ایڈیشن جدید صفحہ 552) میں میں نے واضح طور پر لکھی ہے اور یہ تحقیق ایسی ہے جس میں علامہ شبلی بھی اور اسی طرح مشرقی پاکستان کے بہت بڑے سکالر تھے پروفیسر شہید اللہ فوت ہو چکے ہیں، جب میں بنگال گیا تھا تو ان کے مزار کی طرف بھی گیا۔ان کی بھی تحقیق یہی ہے۔قریباً ملتی جلتی ابوالکلام آزاد صاحب کی بھی ہے اور تحقیق یہ ہے کہ آنحضور کی وفات کا دن 12 ربیع الاول نہیں بلکہ یکم ربیع الاول ہے۔اور "Gregorian Calendar" کو اگر اس سے تو افق دیں تو یہ ٹھیک 26 مئی بنتی ہے۔علامہ شبلی نے بھی تاریخیں دی ہیں ”سیرت النبی“ میں کہ یہ دوسری تاریخیں جن پر کہ مدتوں تک آنحضور کا دن منایا جاتارہا ہے، وہ تاریخیں غلط ہیں۔اصل تاریخ یکم ربیع الاول بنتی ہے اور اس پر انہوں نے جو حساب کیا، اس کا آغاز انہوں نے حجۃ الوداع سے کیا، پھر حضرت ابراہیم کی وفات کے لحاظ سے سارے زاویے دیکھنے کے بعد علامہ شبلی اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔اور یکم ربیع الاول کو آپ دیکھیں تو وہ ٹھیک 26 مئی کی تاریخ بنتی ہے، تو یدفن معی فی قبری اس تاریخ کو وفات ہوگی جس تاریخ کو ، جس وقت کہ آپ کی وفات ہوئی۔تو یہ ایک نیا پہلواللہ تعالیٰ نے چمکتے ہوئے نشان کے طور پر ثابت کیا ، تو اس پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود علیہ السلام کی واپسی ہوئی۔تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے سامنے تینوں مسئلے اکٹھے آئے تھے تو حضور نے تینوں کے متعلق یہ ارشاد فرمایا کہ یہ چونکہ تفصیل طلب چیزیں ہیں، ہم ان پر تین الگ الگ مقالے پیش کریں گے۔چنانچہ اللہ کے فضل سے جماعت کی طرف سے یہ تین مقالے پیش کئے گئے۔پیشگوئی درباره محمدی بیگم ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔مولانا ! یہ آپ نے فرمایا کہ محمدی بیگم، مولوی ثناء اللہ صاحب اور عبد الحکیم مرتد کے بارے میں بھی وہاں مقالے پیش کئے گئے تھے اور اس کی نقول آپ