اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 158
158 کا کلمہ ہے۔اس محمد کا جو زندہ خدا کا زندہ رسول ہے۔اللهـم صــل عـلـى مـحـمـد و على ال محمد كما صليت على ابراهيم و علی ال ابراهیم انک حمید مجید۔پیشگوئی بابت محمدی بیگم ، ثناء اللہ امرتسری و ڈاکٹر عبدالحکیم حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔مولانا ! قومی اسمبلی میں محمدی بیگم کے حوالے سے بھی حضرت خلیفہ امسح الثالث سے سوال کیا گیا۔تو اس کے جواب میں حضور نے کیا ارشاد فرمایا؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔بات یہ ہے کہ اصل سوال تو بنیادی طور پر پہلے سے طے شدہ فیصلہ کے مطابق وہی تھے جو خود بھٹو حکومت کی طرف سے اپنے اٹارنی جنرل کو دئے گئے تھے۔مگر ملاں کی اشک شوئی کے لئے اور اس کی ذہنی عیاشی کی تسکین کے لئے بھی کچھ سوالات پیش کئے گئے جن کا براہ راست یا بالواسطہ کوئی بھی تعلق نہیں تھا اور جن کو پیش کر کے ملاں ہمیشہ ہی استہزاء اور خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔تو ان میں ایک یہ سوال بھی تھا۔حضور نے اس سلسلہ میں نہ صرف محمدی بیگم کا سوال بلکہ مولوی ثناء اللہ صاحب سے مباہلہ ، جس سے انکار کر دیا مولوی ثناء اللہ نے کھلے طور پر اور کہا کہ قرآن مجید میں تو لکھا ہے کہ جو خبیث اور بدمعاش ہیں، ان کی عمریں لمبی ہوتی ہیں اس لئے میں آپ کی اس تحریر کو قبول نہیں کرتا۔پھر عبدالحکیم مرتد کے متعلق بھی سوال کیا گیا۔اس نے پہلے لکھا تھا کہ 4 اگست تک وفات ہوگی۔پھر چنددنوں کے بعد کہا کہ نہیں میرے خدا نے کہا ہے کہ 4 اگست کو ہوگی ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی پیشگوئی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود کو 26 مئی کو بلا لیا۔تو وہ ” کو والا جو الہام تھا، وہ باطل ثابت ہوا، اور بلایا بھی کس طرح؟ حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے حضور علیہ السلام کے وصال سے پہلے خواب دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک تخت پر رونق افروز ہیں اور ایک کتاب تصنیف فرما رہے ہیں کہ اسی دوران دروازے پر آواز آتی ہے۔میں باہر جاتی ہوں تو مجھے کہا جاتا ہے کہ آپ کی خدمت میں یہ اطلاع کر دوں کہ صحابہ اور خود محمد عربی علیہ تشریف لا رہے ہیں آپ کو لینے کے لئے۔کب آئیں گے آپ؟ تو خواب میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ یہ خوشخبری