اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 139
139 اور عجیب بات ہے کہ کوئٹہ میں مولوی تاج محمود صاحب نے جو کہ وہاں کے ختم نبوت کے چوٹی کے لیڈر سمجھے جاتے ہیں، عدالت میں بیان دیا اور وہ مصدقہ بیان ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ جو تکلیفیں آپ احمدیوں کو دے رہے ہیں یہ مسلمانوں کو بھی دی جاتی تھیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ تکلیفیں جن میں یہ ہے کہ کلمہ کی وجہ سے، مسجد سے نکالنے کے لحاظ سے، یہ وہی کام ہے جو مشرکین مکہ محمد رسول اللہ کے خلاف کرتے تھے، وہی کچھ ہم کر رہے ہیں۔تو خدا نے ان کی زبان سے کہلوا دیا کہ خاتم النبین کے بروز کون ہیں اور دشمنان خاتم النبین کے بروز کون ہیں۔یہ تو پہلی بات تھی۔مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی نے اپنے محضر نامہ میں اس نکتہ کو پیش کیا۔یہ خدا کی تقدیر ہے۔یہ جواز کی بنیاد ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ مولانا غلام غوث ہزاروی کا گہرا مطالعہ کرنے والے اور ان کے رفیق کار مجلس احرار پشاور کے صدر سید عبداللہ شاہ صاحب تھے۔اب وہ فوت ہو چکے ہیں۔عرصہ تک یہ پشاور میں مجلس احرار اسلام کے صدر رہے ہیں اور اسی زمانہ میں مولانا غلام غوث ہزاروی بھی تھے ، وہ بھی احرار میں ہی شامل تھے اس وقت۔سید عبداللہ شاہ صاحب نے اپنی یادداشتیں، سوانح حیات ”میری یادداشتیں“ کے نام سے شائع کی ہیں۔اس میں مولا نا صاحب کے متعلق یہ لکھا ہے۔فرماتے ہیں کہ :۔ان کو میں نے بہت نزدیک سے دیکھا ہے۔جب میں مجلس احرار اسلام کا صدر تھا تو یہ چوٹی کے لیکچراروں میں سمجھے جاتے تھے اور چندہ بٹورتے تھے۔دوسری طرف کانگریس سے ان کو وظیفہ ملتا تھا۔تیسری طرف وہ CID کے وظیفہ خوار تھے۔تین طرف سے چندے حاصل کرنے میں یہ ایسے ماہر تھے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔احراری بھی تھے۔انگریز کے خود کاشتہ پودا بھی تھے۔کانگریس کے خود کاشتہ پودے بھی تھے۔تو یہ ہیں مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی۔(ملاحظہ ہو میری زندگی کی یاداشتوں کا چوتھا حصہ از سید عبداللہ شاہ مدیر روزنامه الفلاح پیشاور صفحہ 38) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔جزاکم اللہ آپ نے مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب کا بھی تعارف کروادیا اور نام نہاد ملت اسلامیہ کا موقف پیش کرنے والے جولوگ تھے ان کا بھی۔