اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 140 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 140

140 حافظ محمد نصر اللہ صاحب : - مولانا صاحب ! یہ بھی بعض اوقات ہم نے سنا کہ حضور جوابات کے لئے اگلے دن کا وقت لے لیا کرتے تھے اس میں کیا حکمت تھی؟ یا کس قسم کے سوالات تھے؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔بات یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی زبان خدا کی زبان ہے۔حضور اس شان کے ساتھ سوالوں کا جواب دیتے تھے کوئی چوٹی کا محقق بھی ہو تو اس پر حرف نہیں رکھ سکتا تھا۔حضور اکثر سوالات کے اسی وقت جواب دیتے اور خود چاہتے تھے کہ جتنی جلدی ہو سکے ،حق وصداقت کا پیغام میں پہنچاؤں، لیکن بعض اوقات حوالے ان کتابوں کے تھے جن کتابوں کو دیکھنا ضروری ہوتا تھا۔تو حضور نے فرمایا اور کھلے بندوں حضور نے اظہار کیا کہ میں قرآن مجید کا حافظ ہوں لیکن بانی جماعت احمدیہ کی کتابوں اور سلسلہ کے لٹریچر کا حافظ نہیں ہوں۔تحقیق کرنے کے لئے ضروری ہے اور اپنے منصب کے لحاظ سے بھی کہ اصل کتابوں کو دیکھ لیا جائے اور اصل کتاب کو دیکھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ حضور نے فرمایا کہ میرا ایمان ہے کہ بانی جماعت احمدیہ کی کتابیں روح القدس کی تائید سے لکھی گئی ہیں اور جو اعتراض آج کئے جارہے ہیں ان کے سیاق و سباق میں خدا نے آپ کے قلم سے ہی ان کے جواب بھی بتا دیئے ہیں۔تو اس واسطے میں دیکھے بغیر آج جواب نہیں دوں گا۔کل جواب دے سکتا ہوں۔یہ فلسفہ تھا جو کارفرما تھا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔لیکن ایسا کبھی کبھار ہوا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ بہت کم ہوا۔”سیرۃ الا بدال‘ کے موقع پر خاص طور پر اور ایک آدھ اور موقع پر ورنہ فوری طور پر جواب دینا خود حضور کا اپنا مسلک تھا۔کیونکہ خدا کی طرف سے جو ارشاد تھا خلیفہ راشد کو، وہ یہی تھا ملاں تو یہی چاہتا ہے کہ خواہ ساری دنیا دہر یہ ہو جائے ، کمیونسٹ ہو جائے لیکن احمدیوں کو اسلام کے دائرے سے خارج ضرور کرنا ہے لیکن آپ کا فرض یہ ہے کہ ایسا طریقہ اختیار کریں کہ جو اسلام سے دور ہیں،اسلام کے قریب آجائیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے پوچھے گئے سوالات کا پہلا دور ( 5 تا10 اگست 1974ء) حضرت خلیات اسیح الثالث کا سوانحی خاکہ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔جزاکم اللہ مولانا ! اب ہم ان سوالات کی طرف آتے