اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 138 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 138

138 انٹر نیشنل یکم تمبر 2000ء صفحہ 10 تا 12 میں بھی شائع کیا گیا۔کینیڈا میں بھی چھپ چکا ہے۔تحقیق سے میں نے ثابت کیا ہے کہ گریگورین کیلنڈر (Gregorian Calendar) کا ہجری کیلنڈر کے ساتھ اگر توافق کیا جائے اور تاریخ الخمیس کو دیکھا جائے جو کہ انتہائی مستند تاریخ ہے اسلام کی۔اس میں 28 صفر تاریخ بتائی گئی ہے دارالندوہ کے فیصلہ کی اور اگر آپ گریگورین کیلنڈ رکو دیکھیں، یہ ٹھیک 7 ستمبر بنتی ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یعنی آنحضرت ﷺ کے خلاف جو فیصلہ کیا گیا وہ بھی 7 ستمبر کو ہوا ہے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔آنحضرت ﷺ کے خلاف جو فیصلہ کیا گیا، قریش مکہ نے کیا ، ابوجہل نے کیا ، عتبہ نے کیا ، شیبہ نے کیا، نجدیوں نے کیا ، وہ فیصلہ بھی ٹھیک 7 ستمبر کو ہوا تھا۔اب آپ دیکھیں یہی وجہ ہے کہ موجودہ مورخ جن میں مبارک پوری صاحب بھی اور دوسرے بھی ہیں اور مصر کے مشہور ماہر فلکیات محمد مختار پاشا جو ہیں جنہوں نے دو ہزار سالہ گریگورین کیلنڈر کا توافق دیا ہے اپنی کتاب "التوفیقات الہامیہ میں جو 1894ء کی شائع شدہ ہے۔20 ستمبر 622ء آنحضرت کے ورود قبا کی تاریخ انہوں نے بتائی ہے۔20 ستمبر اگر ورو د قبا کو سمجھا جائے تو آپ یہ دیکھیں کہ اس دور میں سفر کے لحاظ سے آنحضرت معہ آٹھ دن میں پہنچے ہیں ہجرت کر کے غار ثور سے اور آٹھ دنوں میں ہی حجتہ الوداع کے موقع پر مدینہ سے مکہ میں پہنچے ہیں۔اب بالکل واضح طور پر آپ کے سامنے یہ تصویر آ جائے گی کہ 7 ستمبر کو فیصلہ ہوا۔7 اور 8 ستمبر کی درمیانی رات غار ثور تک پہنچنے میں گزری۔اور 9، 10، 11 تین دن غار میں رہے۔یہ تین دن 11 کو ختم ہوتے ہیں۔بارہ کو چلے ہیں اور آٹھ دن میں 20 ستمبر کو پہنچے ہیں تو ٹھیک 7 ستمبر کو یہ فیصلہ ہوا۔میں سمجھتا ہوں اور اکثر خیال آتا ہے کہ اگر بھٹو صاحب کو اور مولویوں کو پتا ہوتا کہ 7 ستمبر ہی کو اسلام کے دشمنوں نے محمد مصطفی اے کے خلاف فیصلہ کیا تھا تو پھر وہ 7 ستمبر کی تاریخ نہ رکھتے۔اگر خواہ ہم ہزاروں لاکھوں روپے بھی دے دیتے۔لیکن یہ خدا کی نقد ی تھی۔سے وہی مے ان کو ساقی نے پلا دی فسبحان الذى اخرى الاعادي