رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 103 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 103

١٠٣ جا پہنچی۔خود حضرت ابراہیم کے باپ نے بھی بادشاہ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔تب بادشاہ نے حضرت ابراہیم کو بلا بھیجا اور اسے تباہ کرنے کی دھمکی دی۔آپ نے فرمایا۔زندہ کرنے والا اور مارنے والا خدا تعالیٰ ہے۔تم میرا کچھ نہیں والا بگاڑ سکتے چونکہ نمرود خدائی کا دعویدار تھا اس نے غصہ بھرے لہجے میں کہا کہ زندہ کرنا اور مار نا میرے اختیار میں ہے یعنی آبادی اور دیرانی میرے قبضہ میں ہے۔حضرت ابراہیم کو علم تھا کہ نمرود اور اس کی قوم کا یہ عقیدہ ہے کہ تمام حیات سورج پر مخصر ہے لیکن اگر یہ سچ ہے کہ بادشاہ موت اور حیات پر قدرت رکھتا ہے تو پھر سورج اس کے ماتحت ہوا۔اس لیے حضرت ابراہیم نے کہا۔ایسا ہے تو سورج کو مشرق کی بجائے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔اس پر وہ بادشاہ لا جواب ہو گیا اور مبہوت رہ گیا۔اگر بادشاہ مزود یہ کہتا کہ میں سورج کو مشرق سے نکالتا ہوں تو سورج کی خدائی کو جواب مل جاتا اور اگر یہ کہتا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا تو اس کا اپنا خدائی کا دعوی جھوٹا ثابت ہو جاتا۔اس لیے وہ خاموش ہو گیا اور کوئی جواب نہ دیا۔سورۃ البقرہ میں اس مباحثہ کا ذکر آیا ہے۔الله۔انقَالَ ابْرَاجِعُ رَنِي الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ انا أخي وأمنيتُ ، قَالَ الْبَاهِمُ عَنَانَّ اللهَ يَات بالشمس مِنَ الْمُشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَهُتَ الَّذِي حضَرَ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ البِينَ۔(سورة البقره (۲۵۹) ش نمرود بادشاہ حضرت ابراہیم کے اس سوال پر کہ تو سورج کو مغرب کی طرف سے لے آہ پر خاموش کیوں ہو گیا تھا ہے ج بادشاہ اور اس کی قوم سورج کی پرستش کرتی تھی۔سورج ان کا سب سے بڑا دیوتا