رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 102 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 102

نمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِةٍ إِلَّا أَنْ تَالُو اقْتُلُوهُ أَوْ ) عنکبوت ) ترجمہ : میں اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ اس کو قتل کر دو یا اس کو میلا دو۔ی اس زمانے میں عراق کے بادشاہ کا کیا لقب تھا ؟ ج : اس زمانے میں عراق کے بادشاہ کا لقب " نمرود " تھا۔تش نمرود کون تھا ؟ ج : نمرود کے متعلق تعربی انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے۔ملك الكلدانيييي هوا سن کرش بن حام جاء ذكره في كتب العرب قالوا انه كان خصما - ابراهيم اشتهر بولوعه بالصيد نمرود کلدانی قوم کا بادشاہ تھا اور وہ این کوشش بن عام ہے اس کا ذکر عربوں کی کتب میں مذکور ہے اور یہ نمرود حضرت ابراہیم کا مخالف مخفا مشہور ہے کہ اس کو شکار کا بہت شوق تھا۔ر جواله الفضل (۲۸ ستمبر مثله شش دینی لحاظ سے بادشاہ کی کیا حیثیت تھی ؟ بلکہ دینی لحاظ سے وہ ج :- نمرود بادشاہ محض دنیوی حکمران نہ تھا اپنے آپ کو ہلا یک چیز کا مالک بلکہ رب سمجھتا تھا۔اُس کے اعمال کے خلات کوئی اعتراض کا حق نہ رکھتا تھا۔اُس کا ہرفیصلہ قطعی ہوتا تھا۔رعایا بھی اُسے دوسرے دیوتاؤں کی طرح اپنا معبود مانتی تھی۔بادشاہ خود سورج کا پرستار تھا اور سورج ان کا سب سے بڑا دیوتا تھا۔شی با دشاه وقت مرد اور حضرت ابراہیم کے درمیان کیا مباحثہ ہوا ؟ ج : حضرت ابراہیم کے بتوں کو ریزہ ریزہ کرنے کی خبر بادشاہ وقت نرود کے کانوں تک