رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 104 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 104

۱۰۴ سمجھا جاتا تھا۔اور اس کو ہر قسم کی کا میابی اور ناکامی ، ترقی اور تنزل تفع اور نقصان کا اصل باعث قرار دیا جاتا تھا۔پہچنا نچہ نیلسنز انسائیکلو پیڈ یا زیر لفظ بہلونیا میں لکھا ہے کہ میرے ڈاک ان کا بڑا خدا تھا۔جیسے سورج کی شعاع یا دن کی روشنی سمجھا جانا تھا اور اسے بنی نوع انسان کی ترقی اور تنزل کا اصل باعث قرار دیا جاتا تھا۔اس کا نام بعل یعنی آقا بھی تھا۔اس کے علاوہ ان کا ایک بہت شمس تھا یعنی سورج دیوتا۔جب حضرت ابراہیم اور بادشاہ وقت کے درمیان فی رج؟ کے متعلق بحث ہوئی اس وقت دن کا وقت تھا اور سورج چڑھا ہوا تھا۔حضرت ابراہیم نے کہا کہ اس سورج کو پیچھے لے جایا یہ کہا کہ اسے مغرب سے چڑھا لا۔اور اس سورج پر اپنی حکومت قائم کر کے دیکھا۔کیونکہ میر سے خدا تعالیٰ کا تو یہ قانون ہے کہ وہ سورج کو۔مشرق سے چڑھاتا ہے اور اس طرح دنیا کو نفع پہنچتا ہے۔اور اگر دنیا کا نفع نقصان تمہار سے ہاتھ میں ہے تو پھر سورج کیا کرتا ہے۔اگر وہ بادشاہ حضرت ابرا ہیم کہ یہ جواب دیتا کہ میں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی ترقی اور تنزل میرے ہاتھ میں ہے بلکہ سورج کے ہاتھ میں ہے تو اس کا م انا احي وامیت کا دعوکی باطل ہو جاتا اوہ اگر وہ یہ کہتا کہ میں ہی سارے امو بہ بجا لاتا ہوں اور نفع و نقصان بھی میرے ہاتھ میں ہے سورج کے اختیار میں نہیں تو ساری قوم اس کی دشمن ہو جاتی اور اس وجہ سے وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔اور مبہوت رہ گیا۔اس طرح حضرت ابراہیم کی زبان سے نمرود بر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہو گئی۔شش۔حضرت ابراہیم نے بادشاہ نمرود سے مناظرہ کر کے کیا ثابت کر