رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 101
قَالَ انتَعْبُدُونَ مِنْ يُذنِ اللهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَياً لا يفتركُمْ أن تحمدَ لِمَا تَعَبُدُونَ مِنْ دُرُنِ اللَّهِ (الانبياء ) تَعْقِلُونَ سورۃ الصفت میں اس واقعہ کا ذکر یوں آتا ہے۔جب لوگوں کو خبر ہوئی تو وہ اس کی طرف دوڑتے ہوئے آئے ابراہیم نے ان سے کہا۔کیا تم اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہو حالانکہ اللہ نے ہی تم کو بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے عمل کو بھی۔نَاقْبَلُوا إِلَيْهِ سَنتُوْنَ ، قَالَ الْعَبدُونَ مَا تَنْحِتُونَ۔وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ) (سورة الصفت آیت ۹۵ - ۹۶-۹۷) کی یہ حضرت ابراہیم نے میں بہت خانہ کے بت توڑے وہ کس کی ملکیت تھا ؟ ج :۔حضرت ابراہیم نے میں بت خانہ کے بہت توڑے وہ ان کے اپنے خاندان کا بت خانہ تھا اور انہیں ورثہ میں ملا تھا اور چونکہ حضرت ابراہیم بچپن ہی سے شرک سے متنفر تھے۔اس لیے انہوں نے اس بت خانہ کو جوان کی آمدنی کا ذریعہ تھا اسے توڑ دیا۔اور بہت نا نہ توڑے جانے کی وجہ سے ملک میں شور پڑ گیا اور حضرت ابراہیم کی عداوت اور دشمنی کا نعرہ بلند کر دیا گیا۔شش ملک کے دستور کے مطابق بتوں کی جنگ کرنے کی سزا کیا تھی ؟ ج :- یہ ایک پرانی رسم نفسی کہ جو بتوں کی بہتک کرتا تھا اُسے میلا دیا جاتا تھا اور ملک کے دستور کے مطابق اور بادشاہ کے قانون کے مطابق بتوں کی ایک کرنے کی سزا جلا دینا تھا۔کیونکہ بہتوں کی ہتک کرنا ارتداد سمجھا جاتا تھا اور ارتداد کی سزا یا تو جلانا تھی یا سنگسار کرنا تھی۔تب نہ ہبی پیشواؤں نے ہی فیصد کیا کہ ابراہیم کو سنت سے سخت سزا دی جائے۔چنانچہ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ در