رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 100
يَنطِقُونَ۔تر جمہ : کیا بلکہ کسی کرنے والے نے یہ ضرور کام کیا ہے۔یہ ان کا بڑا ہے پس تم ان سے پوچھ لو اگر وہ بول سکتے ہیں۔رسورة الانبيار ) ی ، قوم ابراہیم نے حضرت ابراہیم کا یہ جواب سن کر کیا کیا ؟ ج : حضرت ابراہیم کی اس یقینی دلیل کا سردار وں کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کا عقیدہ باطل اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہے مخالفوں نے شرمندگی ا سے اپنے سر نیچے ڈال دیتے اور حیرت میں ڈوب گئے اور اپنے دلوں میں شرمندہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ ابرا ہیم، ظالم نہیں تھا کہ ہم خود ظالم تھے۔پھر بولے کہ ابرا ہیم تم جانتے ہو کہ یہ بہت تو بہلتے نہیں۔اس طرح حضرت ابراہیم کی حجت کامیاب ہو گئی اور دشمنوں نے خود ہی اعتراف کرلیا کہ ابراہیم مظالم نہیں ہے۔ترجعو إلَى الْبِهِ مُنَتَالُوا إِنَّكُمْ أَنتُمُ الظَّالِمُونَ و نكوا على مُ بِهِمُ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا ولاء ترجمہ، اس پر وہ اپنے سرداروں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا یقینا تم ہی ظالم ہو اور وہ لوگ اپنے سروں کے بل گرائے گئے راعینی ا جواب کیے گئے اور رکہا ) تو جانتا ہے کہ یہ تو بولا نہیں کرتے (الانبيار ) گی: حضرت ابراہیم نے انہیں کیا جواب دیا ؟ ج-: حضرت ابراہیم نے انہیں ملامت کی اور نہایت جامع الفاظ میں حضرت ابراہیم نے انہیں نصیحت کی اور کہا کہ جب یہ تمہارے دیوتا نہ تمہیں نفع پہنچا سکتے اور نہ نقصان۔پھر یہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟