انبیاء کا موعود — Page 14
۲۰ ہے اور تنگ حالی ہے۔اور روشنی اس کی بدیوں سے تاریک ہو جاتی ہے۔( باب ۵ آیت ۲۶ تا ۳۰) اب ان نشانیوں پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ” وہ قوموں کے لئے دُور سے ایک جھنڈا کھڑا کرے گا " جھنڈا قوم کی پہچان ہوتا ہے۔پھر تو موں کے لئے یعنی تمام لوگوں کے لئے۔اب جتنے بھی نہی پہلے گزرے ہیں وہ کسی خاص قوم۔زمانے یا علاقے کی اصلاح کے لئے آئے لیکن ہمارے پیارے آقا نے ساری دنیا کو اسلام کی دعوت دی کسی نبی نے دنیا کی ساری قوموں کو نہیں بلایا۔صرف اور صرف آنحضرت نے خدا کے حکم پر یہ اعلان کیا کہ اسے انسانو! میں تم لوگوں کی طرف خدا کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں (سورہ اعراف آیت (۱۵۹) گویا آپ نے سب کو بلایا۔ريا يما النَّاسُ إِلَى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا ) پھر دور سے جھنڈا کھڑا کیا۔سارے نبی بنی اسرائیل میں آئے۔اور بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسی بھی فلسطین میں ظاہر ہوئے لیکن آنحضرت مکہ میں آئے اور مسلمانوں کا مرکز مدینہ کو بنا یا گویا مسلمان قوم کا جھنڈا مدینہ میں بلند ہوا۔اور مدینہ فلسطین سے دُور ہے۔اس طرح دُور سے جھنڈا کھڑا ہوا۔پھر جب آپ نے ساری اقوام کو دعوت دی تو ہر قوم اور ہر قبیلہ سے بلکہ ہر ملک سے لوگوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا۔تاریخ شاہد ہے کہ واقعی وہ دوڑتے ہوئے آپ کے گرد جمع ہونے لگے اور جمع ہوتے چلے گئے۔عربوں کے مختلف قبائل سے چند مثالیں لیتے ہیں کہ اس آواز پر کون کون دوڑا۔رضا قبیلہ بنو تیم میں سے حضرت ابو بکر صدیق " بنو عدی میں سے حضرت عمر فارون بنو امیہ میں سے حضرت عثمان غنی " بنو ہاشم میں سے حضرت علی " حضرت عقیل حضرت عباس"