اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 28
خلاصہ خطبہ جمعہ 20 دسمبر 2013 تیر اسبب عملی اصلاح میں روک کا تیسرا سبب فوری یا قریب کے معاملات کو مدنظر رکھنا ہے۔جبکہ عقیدے کے معاملات دُور کے معاملات ہیں، ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق زیادہ تر بعد کی زندگی سے ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ عملی حالت کے معاملات فوری نوعیت کے ہوتے ہیں یا بظاہر انسان سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ ایسی باتیں ہیں جن کا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر میں کوئی غلط کام کرلوں تو اس سے خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا جو عقیدہ ہے وہ تو متاثر نہیں ہوتا۔مثلاً سنار ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں سونے میں کھوٹ ملا لوں تو اس سے میرے ایک خدا کو ماننے کے عقیدے پہ کوئی حرف نہیں آتا لیکن میری کمائی زیادہ ہو جائے گی۔جلد یا زیادہ رقم حاصل کرنے والا میں بن جاؤں گا۔چوتھا سبب چوتھا سبب عملی اصلاح کی کمزوری کا یہ ہے کہ عمل کا تعلق عادت سے ہے اور عادت کی وجہ سے کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور خصوصاً ایسے وقت میں جب مذہب کے ساتھ حکومت نہ ہو۔یعنی حکومت کے قوانین کی وجہ سے بعض عملی اصلاحیں ہو جاتی ہیں لیکن بدقسمتی سے اسلام میں جن باتوں کو اخلاقی گراوٹیں کہا جاتا ہے اور اُس کی اصلاح کی طرف اسلام توجہ دلاتا ہے ان میں اسلامی ممالک میں انصاف کا فقدان ہونے کی وجہ سے، دو عملی کی وجہ سے، باوجود اسلامی حکومت ہونے کے اسلامی ممالک میں بھی عملی حالت قابل فکر ہے۔اور غیر اسلامی ممالک میں بعض باتیں جن کے لئے اصلاح ضروری ہے، وہ اُنہیں بد عملی اور اخلاقی گراوٹ نہیں سمجھتے ، اس لئے بعض باتوں کی عملی اصلاح نہیں ہوسکتی۔پس عملی اصلاح کے لئے حکومت کا ایک کردار ہے۔جہاں مذہب اور حکومت کی عملی اصلاح کی تعریف ایک ہے اور عملی اصلاح اُس کے مطابق ہے، وہاں عادتیں قانون کی وجہ سے ختم کی جاسکتی ۲۸