اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 29

ہیں۔لیکن جہاں حکومت کا قانون عملی اصلاح کے لئے مددگار نہ ہو، وہاں عادتیں نہیں بدلی جاسکتیں اور عملی کمزوریاں معاشرے کا ناسور بن جاتی ہیں۔جیسا کہ آزادی کے نام پر ترقی یافتہ ممالک میں ہم بہت سی عملی کمزوریاں دیکھتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ سے عملی کمزوریاں اب دنیا میں ہر جگہ پھیلائی جارہی ہیں اور ایسے ماحول میں پڑنے والے، ماحول کا حصہ ہونے کی وجہ سے، مستقل ان چیزوں کو دیکھ کر عادتا بعض عملی کمزوریاں اپنا چکے ہیں۔اور لاشعوری اور غیر ارادی طور پر بچے اور یا جونو جوان ہیں اُن میں بھی ، لڑکے اور لڑکیوں میں بھی یہ کمزوریاں راہ پکڑ رہی ہیں اور جب عادت پکی ہو جائے تو پھر اُسے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔مثلاً نشہ ہے، اس کی عادت پڑ جائے تو چھوڑنا مشکل ہے۔ایک شخص یہ قربانی تو کر لیتا ہے کہ تین خداؤں کی جگہ ایک خدا کو مان لے اور یہ تو کبھی نہیں ہوگا کہ جب ایک خدا کو مان لیا تو دوسرے دن اُسے ایک خدا کی جگہ تین خداؤں کا خیال آ جائے۔مگر نشہ کرنے والے کے دل میں یہ خواہش ضرور پیدا ہوگی کہ نشہ مل جائے۔ساری عمر کے عقیدے کو تو ایک شخص چھوڑ سکتا ہے، مگر نشہ کی عادت جو چند مہینوں یا چند سالوں کی عادت ہے اس میں ذراسی نشے کی کمی ہو جائے تو وہ اُسے بے چین کر دیتی ہے۔سگریٹ پینے والے بھی بعض ایسے ہی ہیں جو اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر، اپنے بہن بھائیوں کو چھوڑ کر، اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر، اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر جماعت میں بھی داخل ہوئے ، انہوں نے قربانی دی اور احمدی ہو گئے لیکن اگر سگریٹ چھوڑنے کو کہو تو سو بہانے تلاش کریں گے۔کسی کا پیٹ پھول جاتا ہے، کسی کو نشہ نہ کرنے سے نیند نہیں آتی ،کسی کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اُس کے خیال میں ختم ہو جاتی ہیں اور اس کے لئے وہ پھر بے چین رہتے ہیں۔اسی طرح یہ صرف اُن کے لئے نہیں جو احمدیت میں داخل ہوئے ہیں، ہر ایک شخص کے لئے ہے۔بعض بہت نیک کام کر رہے ہوتے ہیں اور بڑی قربانی کر کے کر رہے ہوتے ہیں لیکن چھوٹی سی عادت نہیں چھوڑ سکتے۔پانچواں سبب عملی اصلاح میں روک کا پانچواں سبب بیوی بچے بھی ہیں۔یہ عملی اصلاح کی راہ میں حائل ۲۹