اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 27

اُن کی نقل کریں گے۔مثلاً جب یہ بڑے ہوں گے اور ان کو پڑھایا جائے گا کہ یہ برائیاں ہیں اور یہ اچھائیاں ہیں، جیسے مثلاً جھوٹ ہے، یہ بولنا برائی ہے، وعدہ پورا کرنا اچھائی ہے۔لیکن ایک بچہ جس نے اپنے ماں باپ کی سچائی کے اعلیٰ معیار نہیں دیکھے، جس نے ماں باپ اور گھر کے بڑوں سے کبھی وعدے پورے ہوتے نہیں دیکھے، وہ تعلیم کے لحاظ سے تو بیشک سمجھیں گے کہ یہ جھوٹ بولنا برائی ہے اور وعدے پورے کرنا نیکی ہے اور اچھائی ہے لیکن عملاً وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ اپنے گھر میں اس کے خلاف عمل دیکھتے رہے ہیں۔بچوں کی عادتیں بچپن سے ہی پختہ ہو جاتی ہیں، اس لئے وہ بڑے ہو کر اس کو نہیں تسلیم کریں گے۔اگر ماں کو بچہ دیکھتا ہے کہ نماز میں سست ہے اور اگر باپ گھر آکر پوچھے کہ نماز پڑھ لی تو کہہ دے کہ ابھی نہیں پڑھی ، پڑھ لوں گی تو بچہ کہتا ہے کہ یہ تو بڑا اچھا جواب ہے۔مجھ سے بھی اگر کسی نے پوچھا کہ نماز پڑھ لی تو میں بھی یہی جواب دے دیا کروں گا۔ابھی نہیں پڑھی، پڑھ لوں گا۔یا یہ جواب سنتا ہے کہ بھول گئی ، یا یہ جواب سنتا ہے کہ پڑھ لی، حالانکہ بچہ سارا دن ماں کے ساتھ رہا اور اُسے پتہ ہے کہ ماں نے نماز نہیں پڑھی۔تو بچہ یہ جواب ذہن میں بٹھا لیتا ہے۔اسی طرح باپ کی غلط باتیں جو ہیں وہ بچے کے ذہن میں آ جاتی ہیں اور اُن کے جو بھی جواب غلط رنگ میں باپ دیتا ہے، وہ پھر بچہ ذہن میں بٹھا لیتا ہے۔تو ماں باپ دونوں بچے کی تربیت کے لحاظ سے اگر غلط تربیت کر رہے ہیں یا غلط عمل کر رہے ہیں تو اُس کو غلط رنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔اپنے عمل سے غلط تعلیم اُس کو دے رہے ہیں۔اور بچہ پھر بڑے ہو کے یہی کچھ کرتا ہے، عملاً یہی جواب دیتا ہے۔اسی طرح ہمسایوں، ماں باپ کی سہیلیوں اور دوستوں کے غلط عمل کا بھی بچے پر اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔پس اگر اپنی نسل کی ، اپنی اولاد کی حقیقی عملی اصلاح کرنی ہے تا کہ آئندہ عملی اصلاح کا معیار بلند ہو تو ماں باپ کو اپنی حالت کی طرف بھی نظر رکھنی ہوگی۔اور اپنی دوستیاں ایسے لوگوں سے بنانے کی ضرورت ہو گی جو عملی لحاظ سے ٹھیک ہوں۔حمید (۲۷)