اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 26

تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں نقل کا مادہ رکھا ہوا ہے جو بچپن سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ فطرت میں ہے۔اس لئے بچہ کی فطرت میں بھی یہ نقل کا مادہ ہے۔اور یہ ماڈہ جو ہے یقینا ہمارے فائدے کے لئے ہے لیکن اس کا غلط استعمال انسان کو تباہ بھی کر دیتا ہے یا تباہی کی طرف بھی لے جاتا ہے۔یہ نقل اور ماحول کا ہی اثر ہے کہ انسان اپنے ماں باپ سے زبان سیکھتا ہے، یا باقی کام سیکھتا ہے اور اچھی باتیں سیکھتا ہے، اور اچھی باتیں سیکھ کر بچہ اعلیٰ اخلاق والا بنتا ہے۔ماں باپ نیک ہیں، نمازی ہیں، قرآن پڑھنے والے ہیں، اُس کی تلاوت کرنے والے ہیں، آپس میں پیار اور محبت سے رہنے والے ہیں، جھوٹ سے نفرت کرنے والے ہیں تو بچے بھی اُن کے زیر اثر نیکیوں کو اختیار کرنے والے ہوں گے۔لیکن اگر جھوٹ لڑائی جھگڑا، گھر میں دوسروں کا استہزاء کرنے کی باتیں ، جماعتی وقار کا بھی خیال نہ رکھنا یا اس قسم کی برائیاں جب بچہ دیکھتا ہے تو اس نقل کی فطرت کی وجہ سے یا ماحول کے اثر کی وجہ سے پھر وہ یہی برائیاں سیکھتا ہے۔باہر جاتا ہے تو ماحول میں، دوستوں میں جو کچھ دیکھتا ہے، وہ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔اس لئے بار بار میں والدین کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے بچوں کے باہر کے ماحول پر بھی نظر رکھا کریں اور گھر میں بھی بچوں کے جو پروگرام ہیں، جوٹی وی پروگرام وہ دیکھتے ہیں یا انٹر نیٹ وغیرہ استعمال کرتے ہیں اُن پر بھی نظر رکھیں۔پھر یہ بات بھی بہت توجہ طلب ہے کہ بچوں کی تربیت کی عمر انتہائی بچپن سے ہی ہے۔یہ ہمیشہ یا درکھنا چاہئے۔یہ خیال نہ آئے کہ بچہ بڑا ہو گا تو پھر تربیت شروع ہوگی۔دوسال، تین سال کی عمر بھی بچے کی تربیت کی عمر ہے۔جیسا کہ میں نے کہا، بچہ گھر میں ماں باپ سے اور بڑوں سے سیکھتا ہے اور اُن کو دیکھتا ہے اور اُن کی نقل کرتا ہے۔ماں باپ کو کبھی یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ ابھی بچہ چھوٹا ہے، اُسے کیا پتہ؟ اُسے ہر بات پتہ ہوتی ہے اور بچہ ماں باپ کی ہر حرکت دیکھ رہا ہوتا ہے اور لاشعوری طور پر وہ اُس کے ذہن میں بیٹھ رہی ہوتی ہے۔اور ایک وقت میں آکے پھر وہ اُن کی نقل کرنا شروع کر دیتا ہے۔بچیاں ماؤں کی نقل میں اپنی کھیلوں میں اپنی ماؤں جیسے لباس پہننے کی کوشش کرتی ہیں، اُن کی نقالی کرتی ہیں۔لڑکے باپوں کی نقل کرتے ہیں۔جو برائیاں یا اچھائیاں ماں باپ میں ہیں، ۲۶