امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 13
۱۳ پیارے بچو ! بیچے وارث یعنی خُدا کے محبوب میرے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے ڈیڑھ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک جمہوری حکومت قائم کی جہاں کسی فرد کی آزادی پر کوئی پابندی نہ تھی مکہ کی تاریخ میں سب سے نمایاں کام کرنے والا شخص یہی قصی بن کلاب نظر آتا ہے۔اُس کے چھ بیٹے تھے۔سب سے بڑا عبدالدار تھا۔اُس کو باپ نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔یعنی کعبہ کی خدمت اُس کے حصہ میں آئی اور ریاست کا سارا انتظام چھوٹے بیٹے مناف کو ملا۔عبدالدار اپنے باپ قصی بن کلاب کی طرح انتظامی صلاحیتیں نہ رکھتا تھا اس وجہ سے وہ اس اہم کام کو بہتر طور پر سر انجام نہ دے سکا اس کے بعد اس کے بیٹے یہ خدمات انجام دینے لگے۔عبد مناف کو خُدا نے چار بیٹے دیئے تھے اور یہ چاروں ہی اپنے دادا کی طرح قابل تھے۔عبد مناف کی وفات کے بعد اُن لڑکوں نے جن کے نام عبد الشمس ، مطلب ، ہاشم اور نوفل تھے اپنے بڑے چا عبدالدار کے بیٹوں سے کعبہ کی خدمت کو حاصل کرنا چاہا اور قریب تھا کہ لڑائی ہو جاتی مگر دوسرے لوگوں نے بیچ بچاؤ کر دیا اور خُدا کی منشاء کے عین مطابق صلح صفائی سے حاجیوں کی خدمت کرنے کا سارا انتظام ان بھائیوں کومل گیا۔بھائیوں نے مشورہ کر کے یہ کام اپنے بھائی ہاشم کے سپر د کر دیا۔ہاشم نہایت خوبصورت، معاملہ فہم اور قابل آدمی تھے۔اُنہوں نے حاجیوں کی بڑی خدمت کی قبیلہ سے اُن کی ضروریات کا سامان جمع کرتے غریب حاجیوں کے کھانے پینے اور ٹھہرانے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ کیا ہوا کہ مکہ میں بڑا سخت قحط پڑا اور لوگ فاقے کرنے لگے۔ہاشم کو بہت دُکھ ہوا وہ اپنی دولت لے کر شام گئے اور وہاں سے روٹیاں بوریوں اور تھیلوں میں بھر کر اُونٹوں پر لاد کر مکہ لائے اور وہی اونٹ جن پر روٹیاں لدی تھیں ذبح کئے۔اُن کا شوربہ سیرت النبيين جلداول