امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 12 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 12

۱۲ ایسے اہم امور خُدائی تصرف سے ہوا کرتے ہیں۔جب خُدا نے دیکھا کہ اب میرے محبوب کے آنے کا وقت کافی قریب آ رہا ہے تو اُس نے بچے وارثوں کو چن کر یہ انعامات اُن کی جھولی میں ڈال دیئے کہ آؤ ! اب ایک نئے عزم کے ساتھ اُس وجود کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دو جو میر امحبوب ہے۔اس طرح لمبے عرصہ کے بعد مکہ کی حکومت قریش کے ہاتھ آگئی۔مکہ یوں تو شہر بن چکا تھا مگر اُس میں سوائے خانہ کعبہ کے کوئی گھر پکا نہیں تھا۔جو لوگ بھی یہاں آباد ہوئے وہ اس گھر کی عظمت کی وجہ سے پکا گھر نہیں بناتے تھے۔پھر گھر بھی فاصلے فاصلے سے بنائے گئے تھے جو یا تو گھاس پھوس کے تھے یا چھپر تھے۔قصی بن کلاب بہت سمجھدار اور منتظم انسان تھا۔اُس نے عرب سے قریش کی تمام شاخوں کو جمع کر کے مکہ میں آباد کیا ہے ساتھ ہی کعبہ کی حفاظت کہ پیش نظر اس نے کافی میدان چھوڑ کر قریش کو اُس مقدس گھر کے اردگرد پکے مکانات بنانے پر راضی کر لیا تا کہ پھر کوئی اور قبیلہ اس گھر کہ آس پاس آباد نہ ہو سکے۔اس طرح بچو! مستقل طور پر کعبہ کی حفاظت قریش کا مقدر بن گئی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولادکو ایک بار پھر مکہ میں کثرت عطا کی۔اُن کی حکومت تھی اور وہی خانہ کعبہ کے محافظ بھی تھے۔اور جو اُس گھر کا متوتی ہو وہی قبیلہ کا سردار اور مکہ کا حاکم ہوتا۔سارے عرب میں اُس کا قبیلہ عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔قصی بن کلاب نے قریش کو منظم کیا۔مکہ میں جمہوری حکومت کی بنیاد ڈالی اور یہ پہلی حکومت تھی جو مکہ میں قائم ہوئی۔حکومت کے اہم کام مختلف قبائل کے ذمہ لگائے۔ایک کونسل ہال جس کو دار الندوہ کہتے تھے تعمیر کیا۔جہاں قریش اپنے قومی کام باہم صلاح مشورے سے کرتے تھے سے سیرت خاتم النبین جلد اوّل کے سیرت النبی مشبلی نعمانی صفحه ۱۶۳