امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 14 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 14

۱۴ تیار کیا۔اسی شور بہ میں روٹیوں کا چورا کر کے ثرید بنایا اور خوب پیٹ بھر کر لوگوں کو کھلایا اور اس طرح ایک لمبے عرصہ کے بعد اہل مکہ کو فراوانی سے کھانا نصیب ہوا۔اُس پر انہوں نے ان کو ہاشم کہنا شروع کر دیا ہے اصل میں اُن کا نام عمر و تھا۔عربی میں ہشم چورا کرنے کو کہتے ہیں۔یہ فیاض انسان یعنی باشم ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے پڑ دادا تھے یمن اور شام کے ساتھ مکہ کی تجارت اُن کی وجہ سے شروع ہوئی۔ہاشم نے مدینہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنی نجار کی لڑکی سلمی سے شادی کی۔یہ لڑکی اپنی شرافت و فراست اور حسن و جمال میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ہاشم اپنی بیوی کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوئے مگر زندگی نے ساتھ نہ دیا اور غزہ کے مقام پر ان کا انتقال ہو گیا۔ان کی وفات کے بعد ان کا لڑکا پیدا ہوا جس کا نام شیبہ رکھا گیا۔شیبہ اپنی ماں کے ساتھ قریبا آٹھ برس مدینہ میں رہے۔ہاشم کے بھائی مطلب کو جب اپنے بھائی کے بیٹے کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ مدینہ جا کر ان کو اپنے ساتھ مکہ لے آئے جانتے ہو یہ شیبہ کون تھے؟ یہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے دادا جان تھے۔یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے کہ یہ مدینہ میں تھے مگر خُدا ان کو مکہ لایا کہ یہاں پر اس شہر میں خُدا کا محبوب پیدا ہو گا۔یہ شہر میں صرف اپنے پیارے کے لئے بنا رہا ہوں۔مدینہ میں شیبہ آپ کا کیا کام۔میرے بچو!ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی ملکہ اور مدینہ کے قبائل آپس میں محبت و اخوت کے رشتوں میں جوڑے جارہے تھے ایک بات بتانا تو میں بھول ہی گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تو عبد المطلب کے نام سے مشہور تھے۔شیبہ کو تو کوئی جانتا نہ تھا۔اصل میں ہوا یوں کہ جب مطلب شیبہ کو لے کر مکہ میں داخل ہوئے تو لوگوں طبقات ابن سعد عنوان باشم