امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 11 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 11

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مکہ کی شہریت اور کعبہ کی عظمت برابر بڑھ رہی تھی۔مکہ سارے عرب کا مذہبی مرکز بن چکا تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ فیصلہ کیا تھا۔وہ برابر اس شہر کو ترقی دینے کے ساتھ اس کی شہرت کو بھی بڑھا رہا تھا۔اس قبیلہ نے مکہ پر تقریباً پانچ سو سال حکمرانی کی۔لیکن اس قبیلہ کا تعلق حضرت اسمعیل یا اُن کی اولاد سے تو نہیں تھا۔اور آپ کو تو معلوم ہے کہ خُدا تعالیٰ نے یہ نعمتیں حضرت اسمعیل یا ان کی اولاد کے لئے دی تھیں۔اور پھر خُدا کا سب سے پیارا جس کی خاطر اس شہر کو بسایا تھا۔اس کے آنے کا وقت بھی قریب آرہا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ اب یہ انعامات ، یہ دولت، یہ بادشاہت، یہ سعادت جس کا حق ہے اسی کو دی جائے۔پھر بچو! قبیلہ قریش میں قصی بن کلاب پیدا ہوا۔کہتے ہیں وہ پانچویں صدی عیسوی میں پیدا ہوا۔جب یہ بچہ جوان ہوا تو اس نے سوچا کہ یہ حق تو میرے باپ دادا یا ان کی اولا د کا ہے۔لیکن وہ غریب تھا۔سردار سے ٹکر لینے کی جرأت نہ تھی کیونکہ سارا قبیلہ قریش عرب میں بکھرا ہوا تھا۔اس نے ایک ترکیب سوچی۔وہ مکہ آیا۔اتفاق سے اس کو لیل کی میٹی جیٹی سے شادی کرنے کا موقع مل گیا۔جیبی اپنے باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔اس لئے باپ کے مرنے کے بعد سرداری اس کو ورثے میں ملی اور آسانی سے قصی بن کلاب کے ہاتھ میں آگئی۔اس نے آہستہ آہستہ مکہ کی حکومت پر بھی اپنا حق جمانا شروع کیا جس کی وجہ سے جھگڑا ہوا لیکن اس لڑائی کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔دونوں فریقوں نے ایک ثالث مقرر کیا۔جس نے قصی کو حضرت اسمعیل کی اولاد ہونے کی وجہ سے مکہ کا سردار اور کعبہ کا متولی قرار دیا۔ان تمام حقائق کو ہم جیسے انسان حسنِ اتفاق کہتے ہیں۔لیکن یہ حسن اتفاق نہیں۔سیرت النبی ابن خلدون سیرت النبی شبلی نعمانی صفحه ۱۶۳