امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 10
1۔حضرت اسمعیل کے بڑے بیٹے نابت کو آپ کا جانشین مقرر کیا گیا۔ان کے زمانہ میں خُدا کے گھر کی عزت و شہرت دور دور تک پھیل گئی۔اس کی ایک وجہ تاریخ دان یہ بتاتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام بابل کے شہر دار کے رہنے والے تھے اور دادی مصر کی۔اس طرح دونوں علاقوں کے تجارتی قافلے مکہ میں قیام کر کے گزرتے تھے۔اس طرح خُدا تعالیٰ نے مکہ کو عالمی شہرت عطا کر دی۔قافلے چاہے وہ تجارت کی غرض سے آئیں خواہ کعبہ کے طواف کے لئے لیکن خانہ کعبہ کی عظمت کی وجہ سے اس پر چڑھاوا چڑھاتے۔اس طرح کعبہ میں بڑی دولت جمع ہونے لگی۔جو حاجیوں کے آرام و آسائش و غرباء کی مدد پر خرچ ہوتی اور یوں ملکہ ایک امیر شہر بن گیا۔نابت کے انتقال کے بعد ان کے نانا مضاض بن عمر و جرہمی کو کعبہ کا متولی بنا دیا گیا۔اس طرح مکہ کی بادشاہت اب قبیلہ جرہم کے پاس آگئی۔تقریباً ۶۶۰ چھ سو ساٹھ سال تک اس قبیلہ کو یہ سعادت حاصل رہی ہے پھر بچو کیا ہوا کہ ایک اور قبیلہ جس کا نام خزاعہ تھا اس کی بھی یہی خواہش تھی کہ وہ مکہ کا سردار ہو۔چنانچہ انہوں نے قبیلہ جرہم سے لڑائی کی۔ان کا مقصد صرف مکہ کی سرداری نہیں تھا بلکہ ان کی نظر کعبہ کی دولت پر تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی۔خُدا کا کرنا کیا ہوا کہ قبیلہ جرہم کے سردار نے فیصلہ کیا کہ ہم کعبہ کی دولت اور چشمہ کو ان کے ہاتھ میں نہیں جانے دیں گے۔انہوں نے خزانہ چشمہ میں ڈال کر اس چشمہ کو مٹی سے ڈھانپ دیا۔اس طرح یہ مقدس چشمہ گم ہو گیا۔جو مکہ کی آبادی کا موجب ہوا تھا۔جب قبیلہ خزاعہ مکہ میں داخل ہوا تو چشمہ غائب تھا۔ان کے سردار کو بڑی حیرت ہوئی۔تلاش کیا مگر وہ نہ ملا۔اس زمانے میں کنوئیں کھودنے کا رواج تھا۔اس طرح کچھ نہ کچھ پانی حاصل ہو جا تا تھا۔بروج الذہب جلد دوئم صفحه ۵۱