المبشرات — Page 27
۲۷ به صورت حال دیکھ کر عقل انسانی فطرت کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے کہ اگر خدا ہے اور وہ اپنے بندوں سے ہم کلام ہوتا ہے تو آج جبکہ اس کے گذشتہ کلام کو حقیقت کی دنیا سے الگ کر کے الف لیلہ کے رنگین اور دلنواز طاقچوں کی زینت بنا دیا گیا ہے وطلب کشائی سے آخر گریزاں کیوں ہے ؟ عقل حیران ہے کہ آفاق پر حکمرانی کرنے اور آسماں کی پہنائیوں تک رسائی پانے والی سائنس کلام الہی سے بے خبر کیوں ہے ؟ اور اگر سائنس بوجوہ اس سے آگہی نہیں پا سکتی تو دنیا کا کو نسا روحانی ادارہ ہے جس نے اپنے مشاہدات کی روشنی میں اس کی حقیقت و کیفیت بے نقاب کی ہے ؟ یہ ہے وقت کی اہم ترین لپکا رجس کا جواب حاصل کرنے کے لئے پوری دنیا برسوں سے منتظر ہے۔اور زیر نظر باب اسی نوعیت کے مباحث کے لئے مخصوص ہے جو مندرجہ ذیل پہلوؤں پرمشتمل ہیں :۔ا سائنس عقل اور کلام الہی۔۲۔مذہب میں کلام الہی۔-۳- اسلامی نقطہ نگاہ سے کلام الہی کی حقیقت۔اقسام اور کیفیتیں۔اس جہت سے اس باب کو کلام الہی کا تعارف کہنا چاہیئے !! سائنس عقل اور کلام الہی " کلام الہی مذہب کا سرچشمہ ہے اور مذہب کی تعریف یہ ہے کہ " خدا تعالے سے ملنے کا وہ راستہ جو اس نے خود الہام کے ذریعہ سے دنیا کو بتایا ہو لیکن اس کے برعکس سائنس ان علوم سے تعبیر پاتی ہے جو منظم اصولوں کے ماتحت ہوں اور جین میں مادی حقائقی اور ظاہری صداقتوں سے استدلال کیا گیا ہو اور انکی ت کا بنیاد تجربہ اور مشاہدہ پر ہو مذہب و سائنس کے یہ جدا جدا موضوع ہی بتا رہے ہیں کہ دونوں کا کے سائیس و مذهب از حضرت مصلح موعود