المبشرات — Page 26
کلام الہی کا اسلامی تصور اور اسکی اہمیت ضرورت، اور کیفیت کے متعلق اہم تصریحات دہریت پرستوں سے قطع نظر جو خالص مادی نقطہ نظر سے حقائق اشیاء کا مطالعہ کرنے کے عادی ہیں اور کلام الہی کو محض قوت واہمہ کی شعبدہ گری قرار دیتے ہیں خود ماہی کے پر ستار بھی اس زمانے میں مکالمات الہیہ کے حقیقی تخیل سے بیگانہ ہو چکے ہیں۔ان کی کج نگا ہی نے خدا تعالیٰ کی صفت تکلم کے جو خا کے کھینچ رکھتے ہیں وہ بے حد مضحکہ خیز ہیں۔ان خاکوں نے کلام الہی کی تعریف میں یا تو اس درجہ وسعت پیدا کر دی ہے کہ انسان کا ہر خیال الہام الہی کی سرحد میں شامل ہو جاتا ہے اور یا پھر اسے ابتدائے آفریش کے دو چار افراد میں ہی محدود کر دیا ہے جو وید لے کر ظا ہر ہوئے تھے۔بالفاظ دیگر ایک طرف سراب کو سمندر اور دوسری طرف سمندر کو محض سراب سے تعبیر کیا جا رہا ہے اس چشمک زنی سے کلام الہی کا سارا حسن غارت ہو جاتا ہے نتیجہ یہ ہے کہ مذہب جو کسی وقت دنیا کی فعال قوت کی حیثیت سے ابھرا تھا کلام الہی کی غلط تعبیروں کے باعث مشین بنکر رہ گیا ہے جس کو حرکت دینے اور رنگا رنگ کے عقائد کی تخلیق کرنے کا فریضہ خود انسان نے سنبھال لیا ہے۔دہریت کی یہ وہ بدترین شکل ہے جو ان دنوں خود مذہب کی صفوں میں اس کے تحفظ کی علمبردار بنکہ نمودار ہوئی ہے اور ہفتے کالم کی حیثیت میں لادینیت کی خدمت بجا لا رہی ہے دوسری جانب دنیا کے مذھبی حلقے اپنے بلند بانگ دعاوی کے باوجود عمل و کردار اور اخلاق و انسانیت کی تجربہ گاہوں میں پنا کام نظر آتے ہیں میسجدوں - گرجوں۔مندروں اور آتشکروں میں گذشتہ افسانوں کے غلطکے گونج رہے ہیں حالانکہ قلب و نظر يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ" کی بجائے يُؤْمِنُونَ بِالشُّہود کے حامی بن چکے ہیں اور مذہب کا چراغ علوم تهدیدہ کی تیز روشنی میں جھلملاتا دکھائی دیتا ہے۔