المبشرات — Page 28
PA دائرہ عمل الگ الگ ہے۔مذہب خدا کا قول ہے اور سائنس اس کا فعل۔لہذا سائنس کی گاڑی میں بیٹھ کر خدا اور اس کے قول کی تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص لنڈن کے وکٹوریا اسٹیشن سے بذریعہ سہیل نیو یارک یا دو انگشتن پہنچنے کا قصد کرے۔سائنس کی یہ فرمائیگی اور بے نیسی تنہا " قول الہی" کے باب ہی میں نمایاں نہیں " فعل الہی کے لحاظ سے بھی واضح ہے ہے شبیہ بیسویں صدی کے ارتقائی دور میں علوم ارضی و سماوی کی بے شمار راہیں کھلی ہیں اور ہر راہ پر سائنسدان پوری سرگرمی سے محو تحقیقات ہیں لیکن راز کا ئنات کے دریافت کرنے میں ابھی روز اول ہے اور کوئی بڑے سے بڑا سائنسدان بھی یہ دھوئی نہیں کر سکتا کہ قدرت کے سبھی عجائبات منظر عام پر آگئے ہیں اور ایسا ہوتا بھی ناممکن ہے کیونکہ انسان خدا تعالٰی کی معجز نمائیوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے دنیا بھر کے فلاسفروں اور سائنسدانوں کو اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آج سے نصف صدی پیشتر فرمایا تھا کہ : ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدرتیں صرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھے نہیں بلکہ ہم اس خدا کو مانتے ہیں جسکی قدر نہیں 宾 اس کی ذات کی طرح غیر محدود اور نا پیدا کنار اور غیر متناہی ہیں۔یہ ایک فیصلہ شدہ بات ہے کہ اگر علم سائنس یعینی طبیعی خدا تعالیٰ کے تمام عمیق کا موں پر احاطہ کرے تو پھر وہ خدا ہی نہیں جس قدر انسان اسکی بار یک حکمتوں پر اطلاع پاتا ہے وہ انسانی علم اس قدر بھی نہیں کہ جیسے ایک سوئی کو سمندر میں ڈبویا جائے اور اس میں کچھ سمندر کے پانی کی تری باقی رہ جائے " انسان با وجودیکہ ہزارہ ہا برسوں سے اپنے علوم طبیعیہ اور ریاضیہ کے