المبشرات

by Other Authors

Page 195 of 309

المبشرات — Page 195

نہ معلوم اقم طاہر نے یا کسی اور نے جواب دیا کہ وہ اپنی اماں کے ہاں ملنے گئی ہیں کسی کو ان کے پاس بھیجا کہ آیا میں وہاں ملنے کے لئے آجاؤں یا تم یہاں ملنے کے لئے ہوگی اس شخص نے واپس آکر جواب کہ امتہائی کی طبیعت بیمار ہو گئی ہے اور کچھ دمہ یاد کرکشی کی سی شکایت بتائی کہ ایسی آنکی حالت ہے سانس کچھ رکھتا ہے اس وقت مجھے یہ خیال آیا دو کہ میں ان کو دیکھ بھی آؤں اور کوئی ہو میو پیتھک دو ابھی ان کے لئے لے جاؤں جب میں اٹھا تو اس وقت بلند آواز سے میری زبان پر قرآن کریم کی یہ دعا جاری ہوئی دوائی کی پڑیا میرے ہاتھ میں تھی اور میں گھر کی طرف جارہا تھا اور میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور میری زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ : رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَابَ بار بار اور متواتر باشیم گریاں نہایت بلند آواز سے میں یہ پڑھتا چلا جاتا تھا اے " فرمایا ۲۶ مارچ دست اء ناقل کو بیٹے ایک عجیب خواب دیکھا جو کسی آئیندہ زمانہ میں آنیوالے بڑے انقلاب پر دلالت کرتا ہے۔نے دیکھا کہ یں گھوڑے پر سوار ہوں چھ سات اور آدمی بھی گھوڑوں پر سوار ہیں وہ جرنیل معلوم ہوتے ہیں او کسی احمدی لشکر کی کمان کرتے معلوم ہوتے ہیں مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ صداقت کے راستہ سے بھٹک گئے ہیں اور ان راہوں سے دور جاپڑے ہیں جس پر بننے جماعت کو پختہ کیا ہے اور جماعت کو غلط راستہ پر چلا ہے ہیں لینے ان کو نصیحت کی وہ مجھے پہچان گئے ہیں لیکن میری دخل اندازی کو نا پسند کرتے ہیں دیوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی آئندہ زمانہ ہے صدیوں بعد کا میں گویا دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آیا ہوں) اسی بحث مباحثہ میں انہوں نے مجھ پر حملہ کردیا ہے اور چاہتے ہیں کہ مجھے قتل کر دیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ میری تعلیم کیا تھی اور وہ لوگوں کو کدھرے گئے ہیں اس وقت میرے ہاتھ میں ایک تلوار ہے جو بہت لمبی ہے عام تلواروں سے دو تین گئے لیبی۔مگر میں اُسے نہایت آسانی سے چلا رہا ہوں ہم سب ایک خاص بہت کی طرف گھوڑے بھی دوڑائے جاتے ہیں اور لڑتے بھی جاتے ہیں گو وہ کئی ہیں لیکن اُن کا مقابلہ خوب کر رہا ہوں اور ان کے کندھوں پر پینے کئی کاری الفضل ۲۲ جنوری ۱۹۴۶ ص۲