المحراب

by Other Authors

Page 35 of 207

المحراب — Page 35

تخت پر قالین بچھایا گیا تھا جس پر حضرت مسیح موعود علوہ افروز ہوئے اور احباب کا اپنی کوششوں میں نا مراد رہنا، دو س کر اُس پیشگوئی کے پڑے ہونے کا نشان جو نورافشان ، ارمنی مندر میں چھپ کر شائع ہوئی تھی۔اب بھی بہتر ہے کہ بادی چاروں طرف فرش پر بیٹھے۔اس جلسہ میں فریبا در افراد نے شرکت کی جن میں سے ۳۲۷ افراد بیرون صاحب اور اُن کے ہم مشرب بانہ آجائیں اور خدا تعالیٰ سے لڑائی نہ کریں۔قادیان سے شریک ہوئے تھے۔کچھ مخلصین بیرونی ممالک سے بھی تشریف لائے عام طور پر لوگ تکه، انا ده، دہلی، راجپوتانہ، پیش اور جہلم، مالیر کومله ، ریلی علی گڑ ھتد شاه آباد، سہارن پور، نوشہرہ، مظفر گڑھ، لاہور، بھیرہ، راولپنڈی ، کرنال، انبالہ گوجرانوالہ، جالندھر، جھنگ، ہوشیار پور، سیالکوٹ ہست و پور، تا بعد اور جموں کشمیر سے تشریف لائے۔وَالسَّلام على من اتبع الهدى آئینہ کمالات اسلام روحانی بیلد نمبر ۵ صفحه ۶۲۹ - ۶۲۰) تیسرا جلسه سالانه بیرون سے شریک ہونے والے احباب کے نام ایک پیسٹر میں بطور یادگار رج کئے گئے (یہ فہرست حضرت مسیح موعود کی کتاب آئین کا اسلام روحانی خزائت جلد نمبرہ صفحہ ۱۶ ۶ تا ۶۲۹ پر درج ہے) میں حضرت مسیح موعود نے جلسہ کو ملتوی فرما دیا اس سلسلہ میں منصور اس جلسہ کی کامیابی اور حاضری میں اضافہ کو حضرت مسیح موعود نے اپنی صداقت نے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں جیل کے التواء کی وجوہات بیان کیں۔حضور اور کفر علماء کی شکست کا نشان قرار دیا۔آپ نے اس بارہ میں درج ذیل اشتہار شائع دریا۔نے فرمایا : ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ چند ایسے وجوہ ہم کو پیش آئے جنہوں نے ہماری لائے کو اس طرف مائل کیا کہ اب کی دفعہ اس جلسہ کو ملتوی رکھا جائے اور چونکہ بعض لوگ ناظرین کی توجکے لایق اس بات کے سمجھنے کے لئے کہ انسان اپنے منصوبوں سے خدا تعالیٰ کے کاموں تعجب کریں گئے کہ اس التواء کا موجب کیا ہے لہذا الطور اختصار کسی قدران وجوہ میں سے کو روک نہیں سکتا۔یہ نظیر نہایت تشفی بخش ہے کہ سال گزشتہ میں جب ابھی فتومی لکھا جاتا ہے۔تکفیر میاں بٹالوی صاحب مولوی محمد حسین بٹالوی ، تناقل) کا طبار نہیں ہوا تھا اور نہ انہوں اول در یہ کہ اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت نے کچھ پڑھی جد و جہد اور جان کنی کے ساتھ اس عاجز کے کافر ٹھہرانے کے لئے توحید کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان فرمائی تھی۔صرف ۵، احباب اور مخلصین تاریخ جلسہ پر قادیان میں تشریف لائے تھے کے دل آخرت کی طرف بکتی جھک جائیں اور اُن کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو مگر اب جبکہ فتوی طیار ہو گیا اور بٹالوی صاحب نے ناخنوں تک زور لگا کر اور آپ اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور موافات بعد مشقت ہر یک جگہ پہنچ کر اور سفر کی ہر روزہ مصیبتوں سے کوفتہ ہو کر اپنے ہ خیال میں دوسروں کے لئے ایک نموز بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راست بازی اُن میں علماء سے اس فتویٰ پر مہریں ثبت کرائیں اور وہ اور اُن کے ہم مشرب علماء بڑے پیدا ہوا اور دینی جہات کے لئے سرگرمی اختیار کریں لیکن اس پہلے جلسہ کے بعد اب احمر ناز اور خوشی سے اس بات کے مدعی ہونے کہ گویا اب انہوں نے اس اہی سلسلہ نہیں دیکھا گیا بلکہ خاص حیلہ کے دنوں میں ہی بعض کی شکایت سنی گئی کہ وہ اپنے بعض کی ترقی میں بڑی بڑی روکیں ڈال دی نہیں تو اس سالانہ جلسہ میں بجائے ۷۵ بھائیوں کی بید توئی سے پیش کی ہیں اور بعض اس مجمع کثیرمیں اپنے آرام کے لئے دوسرے کے تین سو تائیں اجاب سٹ مل جلسہ ہوئے اور ایسے صاحب بھی تشریف لوگوں سے کچھ خلقی ظاہر کرتے ہیں گویا وہ مجھے ہی ان کے لئے موجب انتباہ ہو گیا۔۔۔۔لائے جنہوں نے تو یہ کمر کے معیت کی۔اب سوچنا چاہیے کرگیا یہ خدا تعالیٰ کی عظیم انسان قدرتوں کا ایک نشان نہیں کہ بٹالوی صاحب اور اُن کے ہم خیال علماء کی کوششوں کا الہ نتیجہ نکلا اور وہ سب کوششیں یہ باد گئیں۔کیا یہ خدا تعالیٰ کا فعل نہیں کہ میاں بٹالوی کے پنجاب اور ہندوستان میں پھرتے پھر تے پاؤں بھی گھس گئے لیکن حالا نکہ دل تو یہی چاہتاہے کہ مالی این محض یہ سفر کر کے دیں اور میری محبت میں رہیں اور کچھ تبدیلی پیدا کر کے جائیں کیونکہ موت کا اعتبار نہیں میرے دیکھتے ہیں مبایعین کو فائدہ ہے مگر مجھے حقیقی طور پر دہی دیکھتا ہے جو صبر کے ساتھ دین کو تلاش انجام کار قد اتعالیٰ نے ان کو دکھلا دیا کہ کیسے اس کے ارادے انسان کے ارادوں پر کرتا ہے اور فقط دین کو چاہتا ہے۔سوا ہے پاک نیت لوگوں کا آنا ہمیشہ بہتر ہے کسی غالب ہیں۔واللہ غالب على أسره ولكن اكثر الناس لا يعلمون (سورہ یوسف آیت ۲۲) اس سال میں خدا تعالیٰ نے دو نشان ظاہر کئے۔ایک میٹالوی جلہ پر موقوف نہیں بلکہ دو کہ وقتوں میں وہ فرصت اور فراغت سے بانہیں کر سکتے ہیں اور یہ جلسہ ایک تو نہیں ہے کہ دنیا کے میلوں کی طرح خواہ مخواہ التزام اس کا لازم ہے بلکہ اس کا انعقاد وصوت نیت اور حسن عمرات پر موقوف ہے۔ورنہ بغیر اس کے ۳۵