المحراب — Page 34
یعنی جو شخص طلب علم کے لئے سفر کرے اور کسی راہ پر چلے تو خدا تعالی بہشت کی راہ مولوی صاحب کے وعظ کے بعد سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے اُس پر آسان کر دیتا ہے۔تیز مہمانداری اور آرام کی نیت سے کسی عمارت کا بنوانا ایک قصیدہ مدحیہ سُنایا۔جائز ہے۔اس تقریر کے بعد حضرت مسیح موعود کی مختصر تقریر تھی میں میں علماء حال کار نمبر شمار کو حضرت مسیح موعود نے بطور تاکید ایک اور اشتہار کے ذریعہ کی چند اُن باتوں کا جواب دیا گیا جو اُن کے نزدیک بنیاد تکفیر ہیں اور اسی کے احباب کو لیہ میںسالانہ کے انعقاد کی اطلاع دی۔حضور نے فرمایا ساتھ اپنے مسیح موعود ہونے کا آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ثبوت دیا گیا۔اور تخت جمیع لجان مخلصین التماس ہے کہ او می کومقام قادیان میں اسلام کے مینو او لینا یا ایک حاضرین کو اس پیش گوئی کے پرا ہو جانے سے اطلاع دی گئی جو پرچہ نور افشاں ہم می جیہ منعقد ہو گا۔اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو ر میں شائع ہوئی تھی اور مختلف وقتوں میں حجت پوری کرنے کے لئے سمجھا بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ دیا گیا کہ اس پیشگوئی کا پورا ہونا درحقیقت صداقت دعوی پر ایک نشان ہے۔کیونکہ یہ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔۔پیش گوئی محض اس لئے ظاہر کی گئی ہے کہ جن صاحبوں کو شک ہے کہ حضرت مرزا حساب ماسوا اس کے میلہ میں یہ بھی ضروریات میں سے ہے کہ یورپ اور امریکہ کی دینی منجانب اللہ نہیں ہیں اگنا کے لئے اس دعوی پر یہ ایک دلیل موجو خدا تعالیٰ کی طرف ہمدردی کے لئے تدابیر حسنہ پیش کی جائیں۔کیونکہ اب یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یورپ سے ان پر قائم ہو اور یہ دلیل قطعی ہے کیونکہ جو شخص اپنے دعوی منجانب اللہ ہونے اور امریکہ کے سعید لوگ اسلام کے قبول کرنے کے لئے طیارہ ہور ہے ہیں۔۔۔۔میں کاذب ہو اس کی پیش گوئی ہو جب تعلیم قرآن کریم اور توریت کے سچی نہیں ٹھہر سوبھا ئیو یقیاً سمجھو کہ یہ ہمارے لئے ہی جماعت طیار ہونے والی ہے۔سکتی وجہ یہ کہ اگر خدا تعالیٰ کاذب کے دعوئی دروغ پر کوئی پیش گوئی اُس کی سچی کہ خدا تعالیٰ کسی صادق کو لیے جماعت نہیں چھوڑتا۔انشاء اللہ الغدیر سچائی کی برکت ان دیوے تو پھر دعوی کا سچا ہونا لازم آتا ہے اور اس سے خلق اللہ دھو کہ میں پڑاتی ہے سب کو اس طرف کھینچ لائے گی۔خدا تعالیٰ نے آسمان پر ہی چاہا ہے اور کوئی نہیں کہ پھر اس کے بعد حضرت اقدس نے اپنی جماعت کے احباب کی باہمی محبت اور اس کو بدل سکے۔سولازم ہے کہ اس عالیہ پر جو کئی یا برکت مصالح پرمشتمل ہے ہر ایک تقوی اور طہارت کے بارے میں مناسب وقت چند نصیحتیں کیں۔ایسے صاحب ضرور تشریف لاویں یو زاد راہ کی استطاعت رکھتے ہوں اور اپنا سرمائی لیتر پھر اس کے بعد ۲۰ دسمبر سر کو یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لحاف وغیرہ بھی بقدر ضرورت ساتھ لادیں اور اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اونے لئے معزز حاضرین نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔اور قرار پایا کہ ایک رسالہ جو اہم اد نے عرجوں کی پرواہ نہ کریں۔۔ضروریات دین حق کا جامع اور عقائد دین حق کا چہرہ معقولی طور پر دکھاتا ہو تالیف ہو کہا اور پھر چھاپ کر یورپ اور امریکہ میں بہت سی کا پیاں اس کی بھیج دی جائیں۔بعد اس کے قادیان میں اپنا مطبع قائم کرنے کے لئے تجاویز پیش ہوئیں اور ایک فہرست اُن صاحیوں کے چندہ کی مرتب کی گئی جو اعانت مطلع کے لئے بھیجتے ہیں گئے۔دوسرا جلسہ سالانہ منعقده ۱۳۸۰۲۷ دسمبر ۶۱۹۹۲ بمقام۔قادیان یہ بھی قرار پایا کہ ایک اختبار است اعت اور ہمدردی دین تین کے لئے جاری اور یہ بھی تجویز ہوا کہ حضرت مولوی سید محمد حسن صاحب اس سلسلہ جلسہ کے آغاز میں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نے قرآن شریف کی کے واعظ مقرر ہوں اور وہ پنجاب اور سہندوستان کا دورہ کریں بعد اس کے دعائے امیہ کے آخر میں قادیان میںسے مطبع کے قیام کے بارہ میں کی جانے والی ان آیات کریمہ کی تفسیر بیان کی جین میں یہ ذکر ہے کہ مریم صدیقہ کیسی صلح اور عفیف نہیں شیر کی گئی۔اور اُن کے برگزیدہ فرزند حضرت عیسی علیہ السلام پر کی کیا خداتعالی نے احسان کیا۔اور کیونکردہ اس فانی دنیا سے انتقال کرکے اور سنت اللہ کے موافق موت کا پیالہ تحریک پر ۹۲ حضرات نے فوری طور پر چند و پیش کیا۔) پی کر خدا تعالی کے اس دار النعم میں پہنچ گئے جس میں اُن سے پہلے حضرت سیجی حضور اس زمانہ میں مدرسه احمد به مهمان خانه اور حضرت حکیم مولوی نور الدین نصاب اور دو کے مقدس نبی پہنچ چکے تھے۔اس تقریر کے ضمن میں مولوی صاحب موصوف کے مکان کی بنیادیں رکھی ہوئی تمھیں اس طرح ایک لمبا سا چبوترہ بن گیا تھا اس چبوترہ پر اور کسی وقت گول گرہ کے سامنے جلسہ ہوتا۔جلسہ گاہ میں ایک اونچے چوبی نے بہت سے حقائق معارف قرآن کریم بیان فرمائے۔۳۴