المحراب

by Other Authors

Page 36 of 207

المحراب — Page 36

ایچ۔اور جب تک یہ معلوم نہ ہو اور تجربہ شہادت نہ دے کہ اس جلسہ سے دینی فائدہ تجھے معلوم نہیں۔وافوض امرى إلى الله وتوكل عليه هو مولتا یہ ہے اور لوگوں کے چال چلن اور اخلاقی پر اس کا یہ اثر ہے تب تک ایسا جلسہ نعم المولى ونعم النصير صرف فضول ہی نہیں بلکہ اس علم کے بعد کہ اس اجتماع سے نتائج نیک پیدا نہیں ہوتے ایک معصیت اور طریق ضلالت اور بدعت شنیعہ ہے میں ہر گز نہیں چاہتا کہ حال خاکسار غلام احمد از قادیان کے بعض پیر زادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھانے کے لئے اپنے مبایعین کو شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد نمبر ۶ صفحه ۳۹۴ تا ۴۰۰) اکٹھا کروں بلکہ وہ علت نانی جس کے لئے میں جبلہ نکالنا ہوں اصلاح خلق اللہ سے جو شخص شرارت اور تکبیر اور خود پسندی اور فرد را در دنیا پرستی اور لالچ اور چوتھا جلایر سالانہ یہ کاری کی دو رخ سے اسی جہان میں باہر نہیں وہ اس جہان میں کبھی یا سر نہیں ہوگا۔یں کیا کروں اور کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں جو اس گردہ کے دلوں پر کارگر ہوں خدایا مجھے ایسے الفاخذ عطافرما اور ایسی تقریریں الہام کر جوان دلوں پر اپنا اور ڈالیں اور اپنی تریاتی خاصیت سے اُن کی زہر کو دور کر دیں۔میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بجثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے در حقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کر لیا کہ وہ ہر ایک شہر سے انے نہیں بچائیں گے اور بخیر ے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل دور جا پڑیں گے اور منعقده IAR بمقام بیت القعلی قادیان به جلسه تواریخ مقرہ پر بیت الاقطعی قادیان میں منعقد ہوا، اس جلسہ میں شرکت کے لئے حضرت مسیح موعود نے بعض احباب کو بذریعہ خطوط بھی اپنے رب سے ڈرتے رہیں گئے مگر ابھی نیک سجز، خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے مدعو فرمایا۔جس کی وجہ احباب پہلے سے زیادہ تعداد میں شریک ہوئے۔نظر نہیں آئیں۔اب میری یہ حالت ہے کہ بیعت کرنے والے سے میں ایسا ڈرتا ہوں جیسا کہ کوئی شہر سے۔اسی وجہ سے کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی دنیا کا کیڑا رہ کہ میرے ساتھ پیوند کرے ہیں التواء جلسہ کا ایک یہ سبب ہے جوئیں نے بیان کیا۔دوسرے یہ کہ ابھی ہمارے سلمان نہایت تا نظام ہیں اور صادق جہاں نشاں بہت کم اور بہت سے کام ہمارے اشاعت کتب کے متعلق قلت مخلصوں کی سبب سے باقی پڑے ہیں پھر اسی صورت میں جلسہ کا اتنا بڑا اہتمام وصہ ہا آدمی خاص اور (حیات طیبہ ملا) اس جلسہ میں حضرت حکیم موادی نورالدین صاحب نے بھی اپنے خطبات اور روحانیت سے لبریز عفوظات سے حاضرین کی ضیافت کی۔ریات تورم) رنوٹ۔اس وقت جلسہ کی روداد قلم بند کئے جانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔لہذا صرف مندرجہ بالا تفصیل کتب سلسلہ سے حاصل ہوسکی مرتب) عام کئی دن آگرہ قیام پذیر رہی اور جلد البقہ کی طرح بعض دور دراز کے غریب پانچوش جلسی سالانه مسافروں کو اپنی طرف سے زاد راہ دیا جا وسے اور کما حقہ کئی روز صد ہا آدمیوں کی مہمانداری کی جائے اور دوسر لوازم چار پائی وغیرہ کا صد ہا لوگوں کے لئے بندوبست کیا جائے اور اُن کے فروکش ہونے کے لئے کافی مکانات بنائے جائیں انتی توفیق ابھی ہم میں نہیں اور نہ ہمارے مخلص دوستوں ہیں۔در معرض ان وجوہ کے باعث سے اب کے سال التوائے جلسہ مناسب دیکھتا ہوں آگے اللہ جل شانہ کا جیسا ارادہ ہو کیونکہ اس کا ارادہ انسان ضعیف کے الدادہ پر غالب سے مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اور میں نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء میری اس تحریر کے موافق ہے یا اس کی تقدیر میں وہ امر ہے جو اب تک منعقده دسمبر ۱۸۹۵ بمقام بیت الاقصی قادیان به جلسہ بھی مقررہ تاریخوں پر بیت الاقصی قادیان میں منعقد ہوا۔نوٹ اس وقت علی کی رو نداد قلم بند کئے جانے کا کوئی انتظام نہیں تھا لہذا اس جلسہ کے بارہ میں مزید تفصیل دستیاب نہیں ہو سکی مرتب)