المحراب — Page 179
جةجة انسان سے فطرتے کبھی پورا باغ دیکھ کر اطمینان نہیں پاتے کبھی ایک کی بھی ٹھیک دالے کے نشانے پر لگتے ہے لہذا باغ کے ساتھ چند اند کھی کلیات پیش کی جارہی ہیں ، گلشن احمدک رنگا رنگی کو اپنی تمام تر وسعت کے ساتھ پیسے کہ نا ممکنات کیسے حدود میں نہیںسے رہا لہذا چند واقعات سے اندازہ لگا لیے۔جنب وقبول کرنے والے ذہنوں سے کے لئے سلسلے کا لٹریچر ایسے خزائن سے بھرا پڑا ہے۔جلس الانہ پر مہمانوں کے لئے مہربانی بستروں کی کمی تھی۔نبی بخش نمبردار نے جن کا خیال و گمان نہ تھا حضرت اقدس سے بستر منگوا کر مہمانوں کو دیئے ان منتروں میں حضرت اقدس کا بستر بھی ایک دفعہ مارچ شام کے مہینے میں بوجہ قلت آمدنی سنگر خانہ کے مصارف چلا گیا۔حضور کے لئے ایک اور بستر منگوایا گیا۔حضور نے فرمایا یہ کسی دوست کو دے دو۔میرا کیا ہے مجھے تو اکثر رات کو نیند نہیں آتی سردی کی وہ رات حضور نے اس طرح گذاری میں بہت وقت ہوئی کیونکہ کثرت سے جہانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابل پر رویہ کی کہ ایک صاحبزادہ پر جو نالیا حضرت مصلح موعود تھے ایک شتری چونہ اٹھایا ہوا تھا اور آمدنی کم۔اس لئے دعا کی گئی ہر بار رچ سر ۱۹۰۵ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص ہو خود حضور بغلوں میں ہاتھ بیٹے بیٹھے تھے اور کس طرح وہ رات گزر گئی۔(مضامین مظہر صه) فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔میرے سامنے آیا اور اُس نے بہت مار دو یہ میرے دامن میں ڈال دیا۔میں نے اس کا نام لو بھا۔اس نے کہا نام کچھ نہیں۔میں نے کہا آخر کچھ تو نام جو گا۔اس نے کہا میرا نام سے نیچی نچی نیچی پنجابی زبان میں وقت منفردہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت آپ مسکرا رہے تھے کے وقت کام آنے والا نب میری آنکھ کھل گئی۔بعد اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعے سے اور کیا براہ راست لوگوں کے ہاتھوں سے اس قدیر مالی فتوحات ر ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد نمبر ۲۱ ص۳۳۶) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔ایک دن آپ ( حضرت مسیح موعود ، ناقل) نے ہماری والدہ سے فرما یا کہ اب تو روپیہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی میرا خیال ہے کہ کسی سے جوئیں جن کا خیال و گمان نہ تھا۔“ قرض سے لیا جائے کیونکہ اب اخراجات کے لئے کوئی روپیہ پاس نہیں رہا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ ظہر کی نماز کے لئے تشریف لے گئے جب واپس آئے تو اس وقت آپ مسکر ا ہے تھے واپس آنے کے بعد پہلے آپ کمرہ میں تشریف لے گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد باہر نکلے اور والدہ سے فرمایا کہ انسان با وجود خدا تعالی کے متواتر نشان دیکھنے کے بعد بعض جماعت کی ترقی حضرت مسیح موعود اللہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر باہر سیر کے لئے دفعہ بدظنی سے کام لینا ہے، میں نے خیال کیا تھا کہ لنگر کے لئے روپیہ نہیں اب کہیں سے تشریف لے گئے تو جاہ پر آنے والے مہمان بھی آپ کے ساتھ میں پڑے برستے ہیں قرض لینا پڑے گا مگر جب میں نماز کے لئے گیا تو ایک شخص نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے لوگوں کے پاؤں کی ٹھوکر یں لگنے کی وجہ سے آپ کی جوتی بار بار اتر جاتی اور کوئی مخلص تھے وہ آگے بڑھا اور اس نے ایک پوٹلی میرے ہاتھ میں دے دی میں اس کی حالت کو آگے بڑھ کہ آپ کو جوتی پہنا دیتا جب بار بار ایک ہوا تو حضرت مسیح موعود کھڑے ہو دیکھ کر سمجھا کہ اس میں کچھ پیسے ہوں گے مگر جب گھر اگر اُسے کھوں تو اس میں سے کئی گئے اور آپ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ اب ہماری زندگی ختم ہونے کے قریب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جو ترکی مقدر کی ہے وہ اُس نے ہمیں دکھا دی ہے۔دافتاحی خطاب حضرت مصلح موعود بر موقع جلسه سالانه مطبوعه الفضل درد سرپرست داد سورد پیر شکل آیا۔و تفسیر صغیر ملا جلد نهم) حضرت صاحزاد مرزا بشیر احمد روایت کرتے ہیں کہ والدہ صاحبہ نے فرماہا شروع میں سب لوگ سنگر سے ہی کھانا کھاتے تھے خواہ مہمان ہوں یا یہاں مقیم ہو چکے مون قیم لوگ بعض اوقات اپنے پسند کی کوئی خاص چیز اپنے گھروں میں پکا لیتے تھے مگر حضرت صاحب کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ اگر ہو سکے تو ایسی چیزیں بھی ان کے لئے آپ ہی کی طرف بنفس نفیس میری آنکھ نے پھر ایک حیرت افزار چیز دیکھی جو کانوں کے ذریعے پیش ہوئی سے تیار ہو کر جاویں اور آپ کی خواہش رہتی تھی کہ جو شخص میں قسم کے کھانے کا عادی ہو اس تھی حضرت امال جان به نفس نفیس لنگر ان میں تشریف لے جاتی ہیں اور وہاں کے کو اسی قسم کا کھانا دیا جاسکے۔“ اسیره حضرت اماں جان صده (۷۷) انتظامات کو دیکھتی ہیں اور اپنی مستی کر تی ہیں پھر اپنے ذاتی اخراجات سے ایک پلاؤ کی دیگ مہمان خواتین کے لئے تیار کرواتی ہیں سوال پلاؤ کی ایک دیگ کا نہیں اکرام ضیف کے اس وصف کا ہے جو حضرت مسیح موعود کی زوجیت کے ساتھ آپ کو ملا۔مہمانوں ۳۲۱