المحراب — Page 178
اید پابندی کے باعث جلسہ سالانہ ارض پاکستان پہ منعقد نہ ہو سکا۔اس پر جماعت احمدیہ کے افراد نے نہ بر دست یوم احتجاج منایا۔یوم احتجاج کے بلے میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا ارشاد بيت الفضل لندن نہیں۔۲ دسمبر ۱۹۸۵ء کے خطبہ کے آخر میں حضرت مرزا طاہر احمد اور کہا جائے کہ صاحب امام جماعت احمدیہ نے ایک تحریک کی جس میں فرمایا کہ ۲۶ دسمبر کو اللہ تعالیٰ کے حضورہ یوم احتجاج منایا جائے۔حضور نے فرمایا میں ایک تحریک کرنا چاہتا ہوں آپ کو پسند ہے کہ جلسہ سالانہ مرکزیہ کے ایام قریب آکر ہے ہیں اور گزشتہ سال کی طرح امسال بھی جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جو ۲۶ دسمبر کو ہونا تھا تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ ہم اس دن اپنا احتجاج کا دن منائیں۔حضور نے اعلان فرمایا تمام دنیا میں سب احمدی احتجاج کسری نگر کوئی ایک لفظ بھی احتجاج کا غیر اللہ کے سامنے نہ ہو۔اس دن روزہ رکھا جائے۔اس دن جہات ہیں کی جائیں۔دن کو بھی عیادت کی جائے رات کو بھی عبادت کی جائے اور تمام تر احتجاج رب اسے ہمارے رب یا ہمارے نزدیک تو ساری غفلت میں تیری ہی ہیں اور ہم تیرے سوا غیر اللہ کیسے عظمتوں کی کلیتہ الفی کرتے ہیں۔ایک کونے میں کی بھی ہمیں براہ نہیں دنیا کی عظمتوں کی۔اور ہمارے نزدیک صرف تو اعلی ہے اور ہر غیر تیرا، جو اعلیٰ ہونے کا دعوی کرتا ہے جھوٹا ہے اور لازہ مانا کام و نامراد ہونے والا ہے۔میں تیرے حضور ہم اس دنیا کی عظمتوں کے دعوے کرنے والوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں کیونکہ ہمارے نز نہ یک تو سوائے تیرے نہ کسی کو عظمت حاصل ہے نہ کسی کو علوم حاصل ہے۔یں اس روح کے ساتھ، اس تیزیہ کے ساتھ ۲۶ دسمبر کو یوم احتجاج بنا دیں اعلیٰ کے حضور کیا جائے۔رکوع میں بھی احتجاج کیا جائے اور سجدوں میں بھی احتجاج کیا جائے اور سالے عالم میں احمدی حمید الرحمن بن کر خدا کے حضور یہ احتجاج کی آواز بلند کریں۔جات النے کے مقدر یا ماں ہو نے لہ تعالے کے عضو متصر علی دکھاؤں میں گرتا ہے نفلی روزه ، ذکر الہی ، نماز تہجد با جماعت اور دیگر عبادات کا اہتمام ریوه ۲۶؍ دسمبر آج یہاں اہلیا رجورہ نے جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ ۱۹۸۵ء کا طور پر تیار کردہ درس بھی دیے گئے۔ان درسوں میں نماز کی جیت کے بارے میں انتقاد نہ ہو سکنے پر زمینی رکاوٹوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کے حضور یوم احتجاج منایا گیا۔آنچ کے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ارشادات عالیہ اور ائمہ جماعت احمدیہ کے فرمودات کے ون خصوصی عبادات اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا نیز اہل ربوہ نے آج نفلی روزہ بھی رکھا۔حضرت اقتباسات شامل تھے۔مرزا طاہر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ احباب جماعت احمدیہ جلسہ سالی اس روتر کی مناسبت سے نظارت اصلاح دار شاد نے حضرت امام جماعت حدداء کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے دنیا بھر میں اللہ تعالیٰ کے حضور یوم احتجاج منائیں۔احمد یہ کے تازہ خطبات باہت تحریک نماز احباب میں وسیع پیمانے پر تقسیم کرائے۔احبا حضور کے ارشار کی تعمیل میں ربوہ کے تمام محلوں میں خانہ ہائے خدا میں اعلانات کر دیے نے خصوصی دعاؤں اور عبادات و نواقل اور تسبیح و تحمید میں یہ دن گزارا اور اس طرح گئے۔جس میں اس دن کے پروگرام کی تفاصیل بیان کی گئی تھیں آج کے دن کا آغاز گھروں میں روزہ کسی غیر اللہ کے سامنے نہیں بجا اللہ تعالیٰ کے حضور حاجیزامہ اور متصرفا نہ دعاؤں کے ذریعہ رکھنے کے لیے سحری کھانے سے ہوا محلوں میں اطفال الاحمدیہ نے تین ساڑھے یوم احتجاج منایا۔تین بجے سے صل علی کے ورد کرتے ہوئے احباب کے گھروں پر دستکیں دے کر انھیں سحری ہ بوہ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی احباب جماعت نے حضرت امام جماعت کھانے کے لیے بیدار کیا۔گھروں میں روزہ رکھنے کا اہتمام کیا گیا بہت سے احباب احمدیہ کے ارشاد کے ماتحت یہ دن دعاؤں اور ذکر الہی میں گزارا اور روزہ رکھنے کے نے گھروں میں نوافل ادا کیے صبح پانچ بجے کے لگ بھگ تمام خانہ ہائے خدا میں علاوہ خصوصی دعاؤں اور درسوں کا اہتمام کیا۔ناز تجار یا جماعت اداکی گئی۔احباب اس تعبیر اور ذوق و شوق سے خانہ ہائے خدا میں نماز تہجہ جلسہ سالا کی مقررہ تاریخوں یعنی ۲۶ ۲۷ ۲۸؍ دسمبر کے تینوں دن ربوہ میں نمازہ تختہ کے لیے حاضر ہوئے کہ ربوہ کے خانہ ہائے خدا میں تنگی کا احساس پیدا ہوگیا۔شدید سری با جماعت خانہ ہائے خدا میں ادا کی گئی اور تینوں دن خصوصی دعاؤں اور درس و تدریس کے باوجود بچے جوان بوڑ ھے تہجد کی نماز ادا کرنے دیوانہ وار خانہ ہائے خدا میں چلے آئے کا التزام جاری رہا۔اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا ہے کہ وہ محض اپنے فضل کرم سے ابتدا اور نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر یوم احتجاج منایا۔احباب کی گریہ زاری سے کا دور فتح نمایاں کے ساتھ اختتام پذیر فرمائے۔اپنے دین کو چار دانگ عالم میں جلد سے لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔خواتین نے گھروں میں نماز تہجد ادا کی نماز تہجد کی ادائیگی کے جلد سر بلند کرے اور ہم احباب جماعت احمدیہ کو دن رات اپنے رب کی راہ میں بعد مجملہ احباب نفسانہ ہائے خدا ہی میں ر ہے۔نصف گھنٹے بعد چھ بجے صبح مان نجراجات قربانیاں دیتے چلے جانے کی توفیق بخشے۔آمین ادا کی گئی۔جس کے بعد حضرت امام جماعت احمدسہ کی تازہ تحریک نماز کے بارے میں خصوصی روزنامه " الفضل زاده