المحراب

by Other Authors

Page 180 of 207

المحراب — Page 180

کی خاطر تواضع کے متعلق حضرت اماں جان کی سیرۃ کا باب بہت وسیع اور اس کی شاندار دہ جلسہ گاہ پر جاتے ہوئے راستہ میں کرتی تھیں۔جلن سے لانہ پر دار المسیح کے اندر اور مثالیں بے شمار ہیں۔۔۔۔پھر یہی نہیں آپ اسٹیشن پر تشریف لے جاتی ہیں اور اپنی موٹر یا مر امینی پور سے قادیان میں مہمان ہی مہمان ہوتے تھے مگر موصوفہ کی مہمان نوازی کا یہ عالم ہونا کو اسی وقت مہمان عورتوں کو شہر ے جانے کے لئے پیش کر دیتی ہیں اور خود اسٹیشن تھا کہ ہر شخص سمجھتا تھا کہ ن کی تمام تر توجہ عنایات کا واحد مرکز صرف اس کی ذات ہے جلسہ گاہ کا انتظام ان کی پر خوش اور دینگ آواز کا مرہون منت ہوتا تھا اور نہ گاوں پر کھڑی رہتی ہیں۔" (نوٹ ، از حضرت یعقوب علی عرفانی الحکم ۴ ر جوری شد جو دوڑ رہے ہیں ایک دفعہ ناریان جلسے کے موقع پر گیا ہوا تھا۔آپ جلسہ گاہ سے اگر نماز مغرب و عشا بیت المبارک میں پڑھاتے تھے۔جب آپ نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے تو آپ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا آج میں جلسہ گاہ میں جانے کے لئے موٹر میں سوار ہو کو مٹرک کے راستے جار ہا تھا اور لوگ موادی شیر علی صاحب کے مکان اور شفاخانہ نور سے جمع شدہ مجمع کو سنبھالنا آسان امر نہیں بنا روایت از محترمہ بیگم صاحبہ حضرت سیٹھ عبد الله اله دین سکندر آباد دکن) (سيرة أم طاہر ص) ایک بابرکت رویا غائبار کی بات ہے کہ میں جابسے لانہ کی تقریب پر قادیان پہنچا رات کو کے پاس پگڈنڈی کے راستے جارہے تھے میری موٹر کی آواز سن کر پگڈنڈی پر جانے میں نے رد یا دیکھی کہ میں حضرت اقدس مسیح موعود کے گھر میں رہتا ہوں اور ایپ معلوم والے لوگوں میں سے کچھ لوگ دوڑ نے لگے تا جلدی سے جلسہ گاہ پہنچ جائیں ہیں نے ان ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قیام گاہ بھی دارالسیسی ہی ہے اس وقت حضرت کی طرف دیکھ کر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے کہ اسے خدا ! جو لوگ دوڑ رہے ہیں تیرا فضل ابراہیم نے مجھے ایک ڈبیہ جو خالص مشک سے بھری ہوئی نفلی عطا فرمائی میں نے اس بھی اُن پر دور کہ آوے۔لیکن انہی تصرف عجیب رنگ میں ظاہر ہوا کہ دوڑنے والوں میں سے کچھ مٹک کھالی اور پھر اس ڈبیہ کو جیب میں ڈال لیا یہ مشک بہت ہی عمدہ میں سے بعض لوگ پکے چلنے لگ گئے اور ہلکے چلنے والوں میں سے بعض لوگ دوڑنے اور خوش ذائقہ تھی اس کے بعد میں حضرت ابراہیم کے سامنے آیت إِني جَاعِكَ لگ گئے۔" ور حضرت مصلح موعود۔۔۔ناقل) لِلنَّاسِ اِما ما پڑھ کر عرض کرتا ہوں کہ منصب امامت کا عطا کرنا تو اللہ تعالی کے اختیار میں ہے۔اس وقت جیب میں نے زیادہ توجہ سے دیکھا توحضرت ابرا ہیم کی جگہ ستید تا محمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نظر آئے۔دو کردان جلسہ سالانہ میں حضرت ستان خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا پر معارف لیکچر جو عرفان الہی ر تجلی قدرت از الحاج موادی قدرت الله منوری من انداز ار ۹۳۵ دی واقعه میری مریم حضرت مصلح موعود اپنے ایک مضمون میری مریم ، میں حضرت سیدہ ام ظاہر صابه کے موضوع پر تھا ہوا نماز ظہر و عصر کے بعد حضور کا لیکچر شروع ہوا اور عشاء کے وقت مرحومہ کا محبت بھرا ذکر فرماتے ہوئے انکے نمایاں وصف مہمان نوازی کو بایں الفاظ خراج تک جاری رہا جب نظر پرختم ہوئی تو حضور نے اونچی آواز سے میرا نام لے کہ ایشا د فرمایا که مولوی غلام رسول را یکی صاحب نماز مغرب وعشاء پڑھائیں لیکن لوگ تھکے تحسین پیش فرماتے ہیں۔مہمان نواز انتہا درجہ کی تھیں ہر ایک کو اپنے گھر میں جگہ دینے کی کوشش کرتیں اور ہیں۔اس لئے نماز مختصر پڑھائی جائے۔حتی الوسع جلسہ کے موقع پر گھر میں ٹھہرنے والے مہمانوں کا لشکر سے کھانا نہ منگوائیں خود بروایت از حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی - حیات قدمی من ) تکلیف اٹھا ئیں۔بچوں کو تکلیف دیتیں کیسین مہمان کو خوش کرنے کی کوشش کی تہیں بعض فقہ اپنے پر کس قدر بو جھولا ہیں کہ میں بھی خفا ہونا کہ آخر لنگر خانہ کا عملہ اسی غرض کے لئے دعا میں شرکت ب تھکے ہوئے جل الانہ نشاد کے موقع پر جب آپکے کے قافلہ زائرین کو تکیہ کمال الدین ہے تم کیوں اس قدر تکلیف میں اپنے آپ کو ڈال کر اپنی صحت بر باد کر تی ہو آخر تمہاری بیماری کی تکلیف مجھے ہی اُٹھانی پڑتی ہے مگر اس بارہ میں کسی نصیحت کا ان پر اثر نہ ہونا۔کاش کے پاس ظہر و عصر کی نمازیں پڑھائیں تو آپ نے کشف میں حضرت اقدس کی زیارت کی اب جبکہ وہ اپنے رب کی مہمان ہیں ان کی یہ مہمان نوازیاں ان کے کام آجائیں اور وہ کریم میزبان اس دادی نظریت میں بھٹکنے والی روح کو اپنی جنت الفردوس میں مہمان کر کے لے الفضل در جولائی ۱۹۲۳) جائے۔پھر جب قادیان میں داخل ہو کر حضرت اقدس کے مزار پر قافلہ درویشاں سمیت آپ نے دعا کرائی تو پھر آپ نے کشف دیکھا کہ حضرت اقدس تشریف لائے ہیں اور حضور کے دست مبارک میں ایک طشت میں پلاؤ ہے اور حضور نے وہ طشت آپ کو پکڑا دیا اسی طرح اس جلسہ سالانہ میں بہیت الاقصی میں آپ دُعا کر رہے تھے تو پھر آپ پر جلیسوں پر بھی وہی ہماری میزبان ہوتی تھیں۔حالانکہ جلست الانہ پر ان کی مصروفیات کشفی حالت طاری ہوگئی آپ نے دیکھا کہ حضرت اقدس بھی دعا میں شریک ہوئے ہیں۔ار حضرت مولوی غلام رسول را چیکی صاحب۔۔۔۔احمد جلد شتم ) کا جو عالم ہوتا تھا اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صبح کا ناشتہ حضرت مسیح موعود KYY