المحراب — Page 17
قادیان دارالامان بھارت کے صوبہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں بٹالہ کے قریب استعمال میں قادی اور پھر قادیان ہو گیا۔ایک قصبہ قادیان آباد ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے مورث اعلیٰ حضرت اس بظا ہر معمولی سی اور زمانے کی گردشوں سے روندی ہوئی بستی میں دنیا دی مرزا ہادی بیگ سنتهامه بمطابق سنہ ہجری میں مغل بادشاہ محمد ظہیر الدین بایہ کے لحاظ سے اہمیت رکھنے والی کوئی خصوصیت نہ تھی مگر اس کو خالق ارض و سماع کی پیار عہد حکومت میں دو سو نفوس کے ہمراہ جو طابع خدام اور اہل وعیال میں سے تھے ایک کی نگاہوں نے نئی دنیا ئیں تخلیق کرنے والی بنیادی اینٹ بنا دیا۔صدیوں پہلے سے معزز رائیس کی حیثیت سمرقد سے ہندوستان کے اس خلافہ میں داخل ہوئے۔یہ اس لیستی کے اللہ کی مقدس نشانی ہونے کے ثبوت ملتے ہیں۔احادیث مبارکہ میں علاقہ لاہور سے پچاس کوس شمال مشرق میں جنگل کی صورت میں موجود تھا۔آپ نے متعد دیار اس بستی کا ذکر ملتا ہے۔جس سے اس کا حدود داریعہ بھی متعین ہوتا ہے۔یہاں اسلام پور کے نام سے ایک ریاست کی بنیاد ڈالی جو شہ تک قائم رہی۔اسلام پور قاضی ما تبھی کہلانے والی ریاست حضرت مسیح موعود کے پر دادا مرزائل محمد کے زمانہ میں بھی ۵ گاؤں پرمشتمل تھی۔سکھوں کے مسلسل حملوں کی يَخْرُجُ نَاس مِّنَ الْمُشْرِقِ فَيُوَطِنُونَ لِلْمَهْدِي سلطانة كنز العمال جلد ، ص ملک عرب سے مشرق کے علاقے کے لوگ مہدی کی روحانی بادشا است کو اپنے ملک میں قائم کریں گے۔وجہ سے اکثر علاقے ہاتھ سے جاتے رہے۔اپنے دینی ماحول کی وجہ سے پینی اس علاقہ میں ایک نماز حیثیت رکھتی تھی حضرت مسیح موٹو۔يخرج المهدِى مِنْ قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا كَدْعَهُ وَ کے پڑدادار زائل محمد کے زمانہ میں ایک سو کے قریب علما صفحار اور حفاظ قرآن قادیان میرے موجود تھے جن کے وظیفے مقرر تھے۔متعلقین اور ملازمین میں سے ہر ایک پنجگانہ نماز کا عادی بنا حتی کہ چکی پیسنے والی عورت بھی نمازوں کے ساتھہ نماز تہجد کا التزام کرتی تھیں۔گردو نواح کے اکثر افغان مسلمان بوجہ یہاں کے لوگوں کے تقومی اور طہارت کے اسی کو منہ کہتے تھے۔یہ ہستی پر امن ومبارک جگہ انصور کی جاتی تھی جہاں سچائی تقوی اور عدالت کا دور دورہ تھا۔يُصَدِّقُهُ اللَّهُ تَعَالَى وَيَجْمَعُ أَصْحَابَهُ مِنْ أَقْصَى البلاد على عدةِ أَهْلِ بَدْرٍ ثَلَاثِ مِئَةٍ وَ ثَلَاثَةٌ عَشَرَ رَجُلاً وَمَعَهُ مَحِيقَةُ مَختُومَةٌ بيها عدد أَصْحَابِهِ بِأَسْمَائِهِمْ وَبِلَادِهِمْ وَ رج اسر الاسرار قلمی مصنف شیخ علی حمزه بین علی ملک الطوسی ارشادات فریدی جلد سه هفت مہدی ایک بستی سے مبعوث ہو گا جس کا نام کدعہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس کی تصد ہے گا اور بدری صحابہ کی طرح مختلف علاقوں کے رہنے والے تین و جلیل القدر صحابہ اسے عنایت فرمائے گا جن آپ کے دادا مرزا عطا محمد صاحب کے زمانے میں مشیت ایزدی کے تحت اس علاقہ میں سکھ غالب آگئے۔اور آپ کے قبضہ میں صرف قادیان کی لیتی رہ گئی۔جو ایک قلعہ کی صورت میں تھی جس کے چار برج تھے ان پر نگہبانی کے لئے اپنی فوج کے سپاہی اور چند تو ہیں بھی تھیں فصیل بانہیں فٹ چوڑی تھی جس پر تین چھپکڑے بکسانی کے نام اور پتے ایک مستند کتاب میں درج ہوں گے۔چل سکتے تھے۔ارد گرد وسیع اور گہری خندق تھی جو بعد میں پانی بھر جانے کی وجہ سے ڈھاب کے نام سے مشہور ہوئی۔سکھوں کے ایک گروہ رام گڑھیہ نے دھو کے سے قادیان پر بھی قبضہ کر لیا اور خوبصورت مساجد اور رہائشی مکانات مسمار کر دیئے ، باغوں کو کاٹ دیا اور وہاں موجود کتب خانہ جلا دیا۔قادیان کے لوگ جن میں حضرت مسیح مو کے بزرگ بھی شامل تھے ملک بدر کر دیئے گئے۔صَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَخْرَزَهُمَا اللَّهُ تعالى مِن النَّارِ عِصَابَةُ تَغْزُ الهِندَ وَعِصَابَةُ تَكُونُ مَعْ عِيسَى ابن مريم عليه السلام انسانی کتاب الجهاد ص ۴۹ مسند احمد و کنز العمال) میری اُمت کی دو جماعتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالی آگ سے محفوظ رکھے سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے آخری زمانہ میں آپ کے والد حضرت مرزا گا ایک وہ جماعت ہے جو ملک ہند میں جنگ لڑے گی اور دوسری غلام مرتضی صاحب کو قادیان کے پانچ گاؤں واپس مل گئے۔اس علاقہ کا نام وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ اسلام پور قاضی سے صرف قاضی رہ گیا جو یہاں کے لوگوں کے إِذَا بَعَثَ الله المسيح بْنَ مَرْيَمَ فَيَنزِلُ عِندَ جماعت عیسی ابن مریم علیہ السلام کے مددگاروں کی ہوگی۔16