المحراب — Page 18
المَنَارَةِ البيضاء شرقي دمشق (صحیح مسلم) جب خدا تعالی مسیح بن مریم کو مبعوث فرمائے گا تو وہ دمشق کے مشرق میں سفید مینارہ پر نازل ہوں گے۔اور ہمہ وقت عبادات کے نور سے منور یہ بستی حقیقی معنوں میں دارالامات بن گئی۔ر میں بر صغیر کی تقسیم کے وقت قادیان کا علاقہ بھارت کے حصہ میں آیا۔حضرت مرت البشیر الدین محمد احمد خلیفة المسیح الثانی نے احمدیت کے دائمی مرکز کو يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهْرِ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ آباد رکھنے کا فیصلہ فرمایا ، چنانچہ پکستان کی طرف ہجرت کے وقت آپ کی آواز پر لبیک حرات مشکواۃ باب اشراط الساعة ص ۴۷) نے لئے ر کہتے ہوئے سینکڑوں احمدی احباب نے حفاظت مرکز کے لئے قادیان میں رہائش ایک شخص نہر کے والے سے ظہور کرے گا اُسے جیٹ زمیندار کہا جائے گا۔لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔بالا خرآپ کی منظوری سے ۳۱۳ احباب نے قادیان میں ان ارشادات گرامی کی رو سے دمشق سے مشرق کی طرف ملک ہند میں دریا سکونت اختیار کی ر جن کو دروایشان قادیان کا لقب دیا گیا، مشرقی پنجاب کی ہزاروں یا نہر کے کنارے واقع ایک لیستی کدعہ نام کی نشان وہی ہوتی ہے جس میں امام مہدی مساجد مقدس مقامات دینی تنظیموں کے مراکز اجڑ گئے۔جبکہ قادیان کا سفید منارة ظہور فرمائیں گے وہ زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہوں گئے اور انہیں صحابہ کی طرح المسیح شیریں صدائے حتی مسلسل بلند کر تا رہا۔اہل قادیان کو کل رقبہ کا صرف تیسواں تین سو تیرہ رفقاء دیے جائیں گے جن کے نام ور پتے مستند کتاب میں محفوظ ہوں گے حقیقتہ ملا۔اہم عمارات احمدیوں کے پاس ہی رہیں جن کی مرمت، دیکھ بھال ، توسیع مشرقی پنجاب کا نقشہ دیکھیں تو قادیان دریائے راوی اور دریائے بیاس کے درمیان ہیں اور تزئین کا کام آج بھی جاری رہتا ہے۔اس وقت وہاں کثیر تعداد میں احمدی آباد ہیں ہے اور مادھو پور سے نکلنے والی دو بڑی نہروں نہر میبالہ اور نہر قادیان کے بھی درمیان لیکن غالب اکثریت ہندوؤں اور سکھوں کی ہے۔ہندوستان کے مختلف شہروں میں قائم احمد ہ جماعتوں کا مرکز ہیں پر امن لیتی ہے۔احمدیوں کے مقامی آبادی سے اچھے میں واقع ہے۔دیگر مذاہب کے نوشتوں میں بھی اس پاک سہتی کا ذکر ملتا ہے۔دید میں قادیان کا نام تندون لکھا گیا ہے (سجوار سوکت ، ۹ منتر ۳) میسج موعود کے ظہور کا مقام حد والی ندی کے قریب - (بحوالہ سوکت ۱۳۷ منتر) روابط ہیں۔قادیان میشہ آبا دینے کے لئے وجود میں آیا ہے۔گردش ایام کی سختیاں اس کی ترقی ہیں روگ نہیں بن سکتی کیونکہ اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کے خاص سلوک کے پیار بھرے دعد سے ہیں۔قادیان کا تقبل اور خدائی بشارتیں حضرت بابا گورو نانک فرماتے ہیں اک جھیٹ ہوسی پر اکساں تو سو برس توں بعد ہوسی۔وٹالے دے پر گئے وچ ہوسی۔ر جنم ساکھی بھائی بالا والی وڈی ساکھی ص ۲۵ مطبوعہ مفید عام پریس لاہور ) ترجمہ ، ایک جٹ زمیندار ہو گا لیکن ہم سے سو برس بعد پیدا ہوگا اور وٹا ہے (ہے) کی تحصیل میں آئے گا۔بائیبل میں ہے الے قوموا۔توجه کرد کس نے صادق کو مشرق سے برپا کیا۔اسے اپنے الہامات حضرت مسیح موعود ان الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ وہ خدا جس نے خدمت قرآن تجھے سپرد کی ہے پھر تجھے قادیان) والپس لائے گا۔کتاب البیر به میدا زمانی خزائن جلد ۱۳ ص۳۰) میں قادیان کو اس قدر وسعت دوں گا کہ لوگ کہیں گے لاہور بھی کبھی تھا ( تذکره صدام) نقش قدم پر چلنے کیلئے بلایا قوموں کو اس کے سامنے رکھا اور بادشاہوں کو اس کے زیر حکومت ایک دن آنے والا ہے جو قادیان سورج کی طرح چمک کر دکھلا دے گی کہ وہ ایک بچے کا مقام ہے۔( دافع السلام) مجھے دکھلایا گیا ہے کہ یہ علاقہ اس قدر آباد ہو گا کہ دریائے بیاس بنک کرد با (شیعه) یعیانی کی کتاب یاب ۴۱ ) خداوند فرماتا ہے میں نے اب کی اے ون سے اس نام پکارا اور وہ آئیگا اور ماکوں کو کچھڑ کی طرح پامال کرے گا۔(طبعا استعیا) نبی کی کتاب باب ۲ ۲۵ بائیبل و ۹۶-۹۷) آبادی پہنچ جائے گی۔(بحوالہ الفضل ۱۴ اگست ) چودھویں صدی ہجری شروع ہوتے ہی اس لیستی پر چودہویں کا چاند طلوع ہوا۔یہ دیر از اہل اللہ اور سعید فطرت لوگوں سے آباد ہو گیا۔بیوت الصلوۃ ، پینٹنگ پریس ، سنگر خانہ، ڈاک خانہ تعلیمی ادارے وغیرہ کھل گئے۔تعمیرات ہونے لگیں۔احمدیت کا پیغام پھیلنے کے ساتھ قادیان کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہونے لگی۔دین حق کی اشاعت کا مرکز اعلائے کلمہ حق کے لئے مجاہد تیار کرنے لگا۔انہی جلسوں ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم شہر بن گیا ہے اور انتہائی نظر سے بھی پر سے تک بازار کل گئے۔اونچی اونچی دو منزلہ و منزل یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دکانیں عمدہ عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے سیٹھ بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازارہ کی رونق ہوتی ہے بیٹھے ہیں اور ان کے آگے ہو اہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں روپوں 10