المحراب — Page 16
لے جائیں سلام علیت کم اللہ کی سلامتی ہو تم میر اس کی رحمت کے سرمایہ ہیں خدا کرے کہ تمہارا وجود دنیا کے لئے ایک مفید وجود ہو جائے ایک دنیا کی دعائیں تمہیں ملتی رہیں سب ہی تمہیں جاتیں اور پہچانیں اور سب ہی تمہاری سلامتی اس کے فضل کے تازہ تازہ پھل تمہیں ملتے رہیں۔خدا کی حمد میں مشغول رہنا اور اس کا شکر بجالانا تمہاری عادت بن جائے تم حقیقی چاہیں۔میرے اللہ کی موہت خاصہ تمہیں جلد تر منزل مقصود تک پہنچا ہے۔توکل اور معنی میں خدا کی جماعت بن جاؤ۔میرے رب کی ایک برگزیدہ اور چنید د جماعت تم پر فرمانبرداری کے مقام پر ثبات قدم تمہیں حاصل ہو۔نفاء الہی کی جنت کے تم ہمیشہ میرے رب کی سلامتی نازل ہوتی رہے۔خدا کرے کہ تمہارے سب اندھیرے وارث نند۔تمہارے پیچھے رہ جائیں۔اللہ کے نور سے تم منور رہو۔تمہارا اور تمہارے آگے آگے چلے خدا کیسے کہ توجد خاص کے قیام کا نمونہ ہو خدا کے کم عن مالی اله علیکم عبودیت کا نور نور السموات والارض کے ساتھ جا ملے اور قرب کا کمال میں تم ہمیشہ مسرور اور مست ہو۔خدا کرے کہ نو معماری کی شمع تمہارے ہاتھ سے ہر تمہیں حاصل ہو۔اللہ کی رحمتیں ہمیشہ تم پر برستی رہیں۔اس کے فرشتوں کی دعائیں ول میں فروزاں ہو خدا کرے کہ سی محمدی۔۔۔۔کی سب دعاؤں کے تم وارث نہو۔تمہارے ساتھ ہوں سیب سلامتی کے تحفہ کے تم حقدار ٹھہرو۔خدا کرے کہ ذکر الہی میں تم یہ مشول ہو اور ذکر ان کے اس پرچی سے ایک مسرتوں کے چھے بھاری حضرت مرزا طاہراحم خلیفہ اسی ارباب عبد اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز اب میں آخر یہ آپ کو لئے پھوٹیں اور بہہ نکلیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمیشہ تم پر سایہ فگن رہے تمہاری پاسبانی دعا کی تحریک کرتا ہوں۔اللہ تعالے کا بے انتہا احسان اور فضل اور گرم ہے کہ نہایت کرتی رہے اور اس کے لطف وکرم کی چاندنی تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے چھپر کھٹوں پر نور افشانی کرتی رہے۔تمہارے اعمال اُسی کے فضل سے بہتر پھل لائیں۔ہی پیارے ماحول میں ہر قسم کے فتنہ و فساد سے بچاتے ہوئے ہماری حفاظت فرماتے ہوئے ہیں اپنی رضا کی خاطر یہاں اکٹھے ہونے کی توفیق عطا فرمائی دنیا کے کونے کونے تمہارے دل اور تمہارے سینے ہمیشہ نیک تمناؤں اور نیک خواہشات ہی کا گہوارہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق یہاں اکٹھے ہوئے۔لوگ دلیل مانگتے ہیں حمایت کی صداقت کی ہیں اس کے جواب میں حضرت مصلح موعود کا پیشعر پڑھ دیتا ہوں کہ ہوتی نہ اگر روشن وہ شمع رنج انور کیوں جمع یہاں ہوتے سب دنیا کے پروانے اور رہیں یو چا ہو تم پاؤ۔اور رب رحیم کی طرف سے سلامتی کا تحفہ تمہیں سر آن ملتا ہے۔اللہ کا وعدہ تمہارے حق میں پورا ہو۔اس کی محبت کے تم وارث بنو۔تمہارا وجود دنیا پر یہ ثابت کر دے کہ اس کی راہ میں عمل اور مجاہدہ کرنے والوں ایشیار اور قربانی دکھانے والوں کو بہترین انعام ملتا ہے اللہ کی محبت کے وہ وارث ہوتے ہیں۔خدا کرے کہ اس کے قرب کی راہیں تم پر کھولی جائیں اور ان راہوں پس تاج سب دنیا کے پروانے محمد منطقی پر درود بھیجنے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔آج سب دُنیا سے پروانے حضرت محمد مصطفی صلی الہ علیہ والہ وسلم کی شمع پر گامزن رہنا تمہارے لئے آسان ہو جائے اور اللہ کرے کہ یہ را ہیں تمہیں اس کی پر اپنی جانیں خدا کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں آج سب دنیا کے پروانے اللہ تعالیٰ نعمت اور اس کے فضل کی منتوں تک پہنچا دیں۔آرام اور آسائش کی زندگی جہاں کے عشق کے گیت گانے کے لئے یہاں اکٹھے ہیں۔یہ پروانے جب واپس لوٹیں گے تم پر ہمیشہ سلامتی ہوتی ہے۔تب بھی یہ گیت گاتے ہوئے واپس جائیں گئے ان کا تو اٹھنا بیٹھنا اللہ اور رسول کی میرا رب تمہیں نیکی پر قائم رہنے کی توفیق دیتا چلا جائے تا دنیوی جنت میں محبت بن چکا ہے۔اب بھی دعائیں کرتے ہیں واپسی یہ بھی دعائیں کریں گے پھر آئیں گے تم ان گھروں کے مکین بنے رہو جو ذکر الہی سے معمورا در شیطانی وساوس سے تو دعائیں کرتے ہوئے آئیں گے اپنوں کے لئے بھی اور غیروں کے لئے بھی سب کا نام لے کر بیان کرنا نہ اس وقت مشکل ہے ان سب کے لئے آئے ھائیں بلند و بالا ہیں اور تا اُس اُخروی جنت میں بھی بالا خانوں میں تمہارا قیام ہو جہاں فرشتوں کی دعائیں اور تمہارے خالق اور تمہارے رب کی طرف سے سلامتی کا کریں اللہ ان سب کے ناموں سے واقف ہے اس کی ان کے دلوں پر نظر ہے وہ پیغام ہر لحظہ تمہیں ملتا ہے۔قرآنی انوار سے تمہارے سینہ دل ہمیشہ منور رہیں اور خدا کرے کہ یہ نور ان راہوں کی نشان دہی کرتا ہے جو دار السلام تک پہنچاتی ہیں ان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب جو یہاں موجود نہیں ہمیں بھی اللہ تعالے خیرو عافیت کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا کرے اور خیر و عافیت اور محبت کے ساتھ تمہارے راستے کی سب تاریکیاں دور ہو جائیں۔رضوان الہی کی اتباع اسس سراط ہی پھر ملائے بخیر جدا ہوں اور پھر ملاتا رہے خدا تعالے یہ وہ وصل وداع ہے جو ندا مستقیم کو تمہارے لئے روشن رکھے جو سیدھی اس کی جنت، اس کی رضا تک پہنچاتی ہے۔خدا کہ سے کہ میرے خدا کے روشن نشان تمہارے سینہ و دل میں محبت الہی کا ایک سمندر موجبران رکھیں۔میرا رب تمہیں نیک اعمال ، ہر شر اور فساد اور ریا سے پاک اعمال بجالانے کی توفیق عطا کرتا رہے۔میرا اللہ خود تمہارا دوست اور ولی بین جائے۔اُس کے قرب میں اسلامتی کے گھر میں تمہارا ٹھکانا ہو۔کی خاطر ہے جہاں وصل کبھی پیارا ہے اور وداع بھی پیارا ہے۔اور غالب کا وہ شعر مجھے یاد آ رہا ہے میں ہیں وہ کہتا ہے۔ه وراع و وصل جداگان لذتی دارد ہزار بارہ برو حمد ہزارہ یا نہ بیا ۱۹