المحراب

by Other Authors

Page 168 of 207

المحراب — Page 168

جلسه مستورات کا پروگرام زیادہ تر مردانہ جلسہ گاہ سے سنا گیا۔محترمہ مصباح النور جلس گا ہیں قیوم صاحبہ (انڈونیشیا، محترمه الحاج عائشہ ظفر میاں صاحبہ (کینیڈا)۔شاہدہ ریاض صاحبہ (لندن) نے بھی خطاب کیا۔حسب معمول صنعتی نمائش بھی لگائی گئی۔پر کا جلسہ جو بڑا جلسہ کہلاتا ہے۔ڈھاب کے کنارے ایک وسیع چوزہ پر ہوا جو ڈھاب کی بھرتی سے جلسہ کے قریب ہی تیار ہوا تھا۔یہی وہ چبوترہ ہے جس منعقد ۱۱۹۱۸ ۲۰ دسمبر ۱۹۸۳ سے ۱۹۹ تک پر بعدی مدرسہ احمد میر مہمان خانہ اور حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کا مکان تیار ہوا مگر اخبار و رسائل کی بے قاعد گی کے باعث مفصل رپورٹ میں دستیاب نہ ہو سکیں جلسہ کے وقت ان عمارتوں کی فقط بنیادیں اٹھی تھیں۔۔۔مختصر رپورٹیں جو موصول ہوئیں اُن کا مضمون ایک ساہے۔جلسے کی تاریخیں ۱۹۹۸ ۲۰ دسمبر ہی رہیں۔یہ ایک ممالک سے نمائندگان تشریف لاتے رہے۔حضرت حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں سلاد کے سالانہ جلسہ کے سوا باقی سالانہ جلسے بیت الاقصی میں منعقد ہوئے۔خلافت اولی کے ابتدائی پانچ برسوں میں بھی ان کا انعقاد بیت الاقصی میں ہی ہوتا رہا لیکن ۱۹۱۳ ء سے ۱۹۲۳ در تک بیت نور صاحبزادہ وسیم احمد صاحب افتتاحی خطاب اور حضور ایده الودود کا پیغام مناتے جلسہ گاہ رہی۔اس کے بعد اد میں سامعین کی کثرت کے پیش نظر بیت نور رہتے۔اختتامی خطاب کی صاحبزادہ صاحب کا بہتا رہا۔غیرمسلم معروزین کی خاصی تعداد میں تشریف لاتے رہے۔ہر سال کی رپورٹ میں یہ حملہ بھی موجود ہے کہ اس سے باہر میدان میں اس مبارک اجتماع کا آغازہ ہوا اور شاہ تک ۲۲ جلسے اُس سال حاضری آج تک کے جلسوں میں سب سے زیادہ تھی ؟ جار مستورات بھی سرزمین ہیں منعقد ہوئے ملکی تقسیم کے بعد قادیان میں پہلا جلسہ سالانہ دوبارہ بیت الاقصی میں ہی منعقد ہوا اور پھر اُسے وار میں باب الانوار کے پرانے جلسہ گاہ سب معمول ہوتا رہا۔در تاریخ احمدیت جلد دوم ) 19ء میں پاکستان سے ۸۰۰ احباب تشریف لائے۔جلسہ گاہ محلہ ناصر آباد میں منتقل کر دیا گیا۔جو بہشتی مقبرہ کے قریب ہے کہ وسیع احاطہ میں تھی جبکہ مستورات کا جلسہ بہشتی مقبرہ سے بیوہ کا پہلا جاسہ بہت مبارک کے پیچھے حضر ت میں موجود کے خاندان کی کو ٹیوں ملحق باغ میں ہوا۔جلسہ میں سکھ معر دین کثرت سے آئے۔19 دسمبر کی رات ایک عالمگیر کی جگہ پر ہوا تھا جہاں حضرت صاحبزادہ مرزا نوراحمد صاحب کی کوٹھی تعمیر ہوئی شاد محفل مشاعرہ منعقد ہوئی۔موسلادھار بارش ہونے کی وجہ سے آخری دان مردانہ جلسہ سے مردانہ جلسہ گاہ تنفرت گرید ہائی اسکول میں اور زنانہ جلسہ گاہ جامہ نصرت میں بنتیں۔بیت اقصٰی میں اور نرنانہ بہت مبارک میں ہوا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ندیم احمد سیاه کا اختتامی خطاب مختصر رہا یغیر ملکی زائرین نے بھی خطاب کیا۔صد سالہ جشن تشکر کی تقریبات کی وجہ سے رونق رو بالا ر ہیں۔اظہار تشکر ر اس مجلہ کی طباعت کے دشوار مراحل میں ہمارے سارے خلوص معاونت کرنے والے احباب ہ کے جلسہ سالانہ میں حضرت خلیفہ مسیح الرابع کا پیغام درجو شامل اشاعت ہے، ثنا گیا اور مجمل احباب حاضر و بغیر اعر یہ دعا کرتے رہے کہ قادر قوم خدا حضور پر نور کی دلی خواہش پورے ہونے کے سامان فرمائے ، تا سوواں جان سالانہ کے نام بغرض دُعا تحریہ ہیں۔اپنی پوری شان سے خلیفہ مسیح کے بابرکت وجود کے ساتھ قادیان داران نہیں ہے۔منعقد ہو سکے۔جلس الانه ۱۹۹۷ ۶ قادیان تخت گاہ میں خلیفہ ایج کے قدم چومنے کو بے قرار ہے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بنی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا پوتا اور حضرت مرزا بشیر الدین محمد احمد لیفت مسیح الثانی کا بیٹا جو اس وقت منصب خلافت پر متمکن ہے تشریف لانے والا ہے ہم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد خلیفتہ المسیح الرابع کو اس جلسہ سالانہ میں شمولیت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اُن کی آواز میں آوانہ ملا کر سکہتے ہیں۔بنا ہے مبط انوار قادیان دیکھو وہی صدا ہے۔سنو ایجو سدا سے اٹھی ہے کنارے گونج اٹھے ہیں زمین کے۔جاگ اُٹھو کہ ایک کروڑ صدا۔اک صدائے اٹھی ہے ذکاء اللہ ڈھڈی الو المحسن اعوان (خوشنویس) محمد کلیم طارق جاوید ( خادم ڈرگ روڈ) محمد اکرم نوشاہی (خادم النور ) عون علی صاحب رسائل کیلینڈر نر) عمران جماعت) رفیق احمد صدیقی صاحب علیم احمد صاحب جلس الانہ ربوہ شاد کی بڑی تصویر پوسٹر، نیر ٹائیٹل کی تصویر کی ٹرانسپرنسی جناب سلیمان احمد طاہر صاحب فجزاکم اللہ احسن الجزاء