المحراب — Page 169
روداد برطانیہ برطانیہ میں ایک لمبے وقفے کے بعد جلسہ سالانہ کے انتقاد میں باقاعدگی ۲۶ کے اس پر وگرام میں خوشگوار تبدیل کی گئی۔آنری خطاب حضرت خلیفہ مسیح الرابع ر اگست وارد کے جلسہ سے شروع ہوئی۔اس جلسہ میں برطانیہ کی گیارہ جماعتیں ایدہ اللہ نصرہ العزیز کا تھا۔قادیان اور ریوہ سے باہر پہلی دفعہ وہاں مقیم خلیفہ آسیج شامل ہوئی حاضری کم و بیش ستر سے انٹی افراد تھی۔ابتدا میں جلسے مشن ہاؤس کے نے خطاب فرمایا۔برطانیہ کی جماعت کے ہر فرد کور بود اگر خلیفہ آسیج کی زیارت اور لمان میں قنات وغیرہ لگا کر ہوتے رہے بعد میں لان میں شامیانے لگائے گئے۔مبارک آواز سننے کا موقع نہیں مل سکتا تھا۔گرانہ دلوں پہتے اسکوں اور قبول کرتے یہ جلسے دو دن کے ہوتے تھے۔جیسے جیسے جماعت نے وسعت اختیار کی یہ جلسے ہوئے دلوں کے ساتھ خوش نصیبوں نے پیارے آقا کا داعی الی اللہ کے موضوع۔عمر پارکوں میں ہونے لگے جہاں حاضری دو اڑھائی ہزارہ تک ہو جاتی رو بمان پارک ایک گھنٹہ خطاب شنا۔حاضری تین چار ہزار تھی۔میں دو جلسے ہوئے۔برطانیہ کے جلسوں کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ سرکردہ افراد جن میں میر ز آن منعقده ۱۵ ۷۰۶۰۵ اپریل ۱۹۸۵ پارنمنٹ کو نارند سیاسی، مذہبی، دانشور اور سرکاری حیثیت کے حامل افراد نیست یہ جلسہ نے تردید کرده اید بین سنٹر اسلام آباد واقع تکلفورڈ سرے میں منعقد کھلے دل سے شامل ہوتے ہے اور جلسہ سے بھی خطاب کرتے رہے۔خاص طور پر ہوا۔دنیا کے پانچ براعظموں کے کم و بیش ۲۸ ملکوں کے ہزارہ سے زائد ا حباب نے حضرت چو ہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی شرکت اور خطابات اہل برطانیہ کے لئے شرکت کی۔آسٹریلیا، جاپان، نفی، انڈونیشیا، ملائشیا سنگاپور، بنگلہ دیش، بھارت، گیمبیا سیرالیون، نائیجیریا، غانا، کینیا، تنزانیہ پاکستان ، ایران، مشرق وسطی کے اکہ نعمت ثابت ہوتے رہے۔و میں پندرہواں مالی سالانہ گرین فورڈ پارک منسوبر طانیہ میں منعقد ہوا یوگنڈا ، دائرے، لیبیا، زمبابوے، ماریشیس، جنوبی افریقہ ، ناروے، سویڈن، ڈنمارک ان ایام میں حضرت خلیفہ ایسیح الثالت یورپ، افریقہ، امریکہ اور انگلت مان کا دورہ اینڈ بیلجیم، آئرلینڈ، فرانس ، سوئٹزرلینڈ، سپین، کینیڈا، امریکہ، ٹرینیڈا فرمارہے تھے اہل برطانیہ کی خوش بختی کہ بھلسہ سالانہ کے ایام میں آپ برطا نہیں تشریف گی آنا وغیرہ سے احباب تشریف لائے۔رکھتے تھے۔چنانچہ 5 اکتوبینہ کے جلسہ میں جو وہاں کے لایٹہ میٹر کی صدارت میں ہوا۔حضرت صاحب نے رونق افرد نہ ہو کہ بچوں میں انعامات تقسیم فرمائے اور حضور نے ان افضال باری تعالے کا ذکر فرمایا جو حضور کے انگلستان تشریف لانے کے بعد اللہ تعالے نے جماعت احمدیہ پر فرمائے۔احباب جماعت کی پر خوش مالی قربانیوں در اپریل کو بعد نماز جمعہ جلسہ کی کارروائی کا آغاز ہوا۔افتتاحی خطاب میں خطاب فرمایا۔حضور نے فرمایا۔ئیں نے سینکڑوں مرتبہ قرآن کریم کا نہایت تدریہ سے مطالعہ کیا ہے اس ہے اور یورپ و امریکہ میں مراکز کے قیام کا تذکرہ فرمایا۔قرآن کریم اور کتب حضرت بانی میں ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے جو کہ دونیادی معاملات میں ایک مسلم اور ایک غیرمسلم سالہ کے تراجم کیسٹس د دریتی لٹریچر کی اشاعت کی تفصیلات بیان فرمائیں۔اور جماعت میں تفریق کی تعلیم دیتی ہو۔۔۔حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے احمد یہ برطانیہ کی بے لوث رضا کارانہ خدمات کا تذکرہ فرمایا۔صحابہ کرام نے لوگوں کے دلوں کو محبت پیار اور ہمدردی سے جیتا تھا اگر ہم بھی لوگوں مارا اپریل کو اختتامی خطاب میں حضور نے جماعت احمدیہ کے خلاف مشائع شدہ کے دلوں کو فتح کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا ہو گا۔قرآن کریم قرطاس ابیض کے اس مرکزی الزام کا جواب دیا کہ (نعوذ باللہ) جماعت احمدیہ حضرت کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے LOVE FOR ALL HATRED FOR NONE برطانیہ میں جلسہ ہائے سالانہ کی روایت کا انیسواں سال تھا۔۲۵ ۲۶ ، اگست ۱۹۹ ء کو منعقد ہونے والے جلسہ کا پروگرام مرتب ہو چکا تھا۔اہل برطانیہ گمان بھی محمد مصطفی صلی الہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتی۔حضور نے اپنے موقف کی تائید میں قرآن کریم، احادیث نبویہ اور بزرگان سلف کے متعدد حوالہ جات پیش فرمائے۔(ضمیمه خالد اپریل ۱۹۸۵ء) ٹیلفورڈ کے نئے مرکز میں ہزارہ واں مہمانوں کے قیام کا انتظام کیا گیا مہمانوں کی نہیں کر سکتے تھے کہ اس جلسہ کو کیا تاریخی اہمیت حاصل ہونے والی ہے یہ جلسہ اپنے اکثریت کو گیسٹ ہاؤس رمو بود میشن باڈس کے قرب و جوار کے احمدی گھروں میں پر وگرام کے مطابق TULWORTH RECREATION CENTRE مگر اس طرح مرکزی جلسہ کے طریق پر ٹہرایا گیا۔دو جگہوں میں لنگر کا بھی انتظام تھا۔ایک ٹلفور ڈر دوسرے ۲۱۱