المحراب — Page 167
منعقده ۱۱۹۱۸ ۲۰ دسمبر ۶۱۹۸۷ قادیان کی سرزمین میں جلسہ پوری شان و شوکت کے ساتھ ہوا۔ہندوستان سے احباب تشریف لائے۔حاضرین جلسہ کی تعداد تقریباً تین چار ہزارتی۔افتتاحی خطاب کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے حضرت تخلیفہ ایسیح الثالث کا پیغام گنایا۔علمائے سلسلکی تقاریہ کے علاوہ غیر ملکی معززین نے بھی خطاب کیا۔محترم ظفر احمد صا ظفر اور کرم جمیل الرحمن صاحب امریکہ سے آئے تھے۔محترم حافظ بشیر الدین کے شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغریب بیک کی جماعتوں کے نمائندگان عبید اللہ صاحب مربی مارکیٹس اور محترم ہدایت اللہ جیش صاحب بجرمنی نے بھی خطاب پہلے سے بہت پڑھ کر آئے۔حیدر آباد اور یاد گیر سے بوگیاں آئیں۔14 ممالک سے کیا۔محترم شیخ ناصر احمد صاحب رسوئٹزر لینڈ، محترم ڈاکٹر اعجاز احمد صاحب اور مکرم احباب تشریف لائے۔محترم صاحبزادہ مرزا دوسیم احمد صاحب نے افتتاحی خطاب کے سید شریف احمد صاحب منصور کی کینیڈا اور محترم چو ہدری خلیل احمد صاحب امریکی) بعد حضرت خلیفتہ ایسے الثالث کا پیغام سنایا۔صاحبزادہ صاحب نے سیرت حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم بیان کی اور اختتامی خطاب بھی فرمایا۔غیرملکی نمائندوں نے نے بھی ایمان افروز واقعات سنائے۔ار دسمبر کو بعد نماز فی مہمانان گرامی کا تعارف کروایا گیا ۲۰ دسمبر کی رات مجلس تعدام الاحمدیہ کے تحت ایک تربیتی جلسہ ہوا۔جاره منظورات حضرت مولوی فرنه به علی صاحب کے مکان کے عربی جانب تیار کردہ بھی خطاب کیا۔ہور دسمبر کو بعد نماز فجر بیت المبارک میں غیر ملکی مہمانوں کی ایک تعارفی تقریب ہوئی۔جلس مستورات کی زیادہ تر کار روائی مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئی سیروانی مالیس وسیع احاطہ یں ہوا برطانیہ، افریقہ، امریکہ اور جرمنی سے مہمان بہنوں نے شرکت کی۔اور انگلستان سے مہمان خواتین نے بھی خطاب کیا۔ایک ہزار سے زائد خواتین نے یحہ کی طرف سے صنعتی نمائش لگائی گئی۔حاضری ۷۵۰ تک تھی جلسہ میں شمولیت اختیار کی۔منعقده ۱۸ ۱۹ ۲۰ دسمبر ۱۷ منعقده ۱۰۰۹۶۸ دسمبر ۱۹۷۱ ہندوستان کے تمام مختلف صوبوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی فدائیان توحید ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے۔19 ممالک کے نمائند گان تشریف لائے۔جلسہ کے پروگرام میں حضرت صاحبزادہ مرزا د سیم احمد صاحب نے افتتاحی تقریب طور پر کثیر تعداد میں مہمان تشریف لائے۔ماریشس، نائیجیریا، امریکہ کینیڈا، جرمنی انگلینڈ کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الرابع کا پیغام سنایا۔یہ میلہ خلافت رابعہ کے دور کا پہلا انڈونیشیا اور پاکستان سے کل ۱۲۱ر احباب جلسہ میں شرکت کے لئے آئے۔منعقده ۲۰۶۱۹۶۱۸ دسمبر ۱۹ یو ہندوستان کے علاوہ ماریشس، جرمنی، ڈنمارک، برطانیہ، امریکہ، پاکستان جلسہ تھا۔پراحمدی کا دل جانتا ہے کہ وہ قدرت ثانیہ کی برکات کے جاری وساری رہنے کی مسلسل عمل سے کس قدر تقویت پاتا ہے۔تیرہ علمائے سلسلہ کی تقاریہ ہوئیں۔ان کے علاوہ بارہ غیر ملکی نمائندوں نے خطاب کیا۔تقادیان کے جلسوں کی ایک خوش کن روایت ہے کہ وہ آخری دن نماز فجر کے بنگلہ دیش، اسرائیل، اردن، غانا، ہالینڈ، ٹرینیڈاڈ سوئٹزر لینڈ، اندر نیست یا سنگاپور ید غیرملکی ہانتوں سے تعارف کا پروگرام رکھتے ہیں۔۸ار اور ہر پیمبر کو جان رادر اور ملائشیا سے آنے والوں کی تعداد یہ تھی۔تو در ۱۹۷۰، ۱۹۷۱، ۱۹۷۵ء کو رپورٹ ہمیں نا مالك موصول نہیں ہو گئے۔(مرتبہ) منعقده ۲۰۰۱۹۱۸ دسمبر ۶۱۹۸۰ امرتسر ٹیلی ویژن نے جلسہ سالانہ کی جھلکیاں پیش کیں۔جلسہ مینتورات میں حاضری ۰۵۰ اعلی مردانہ جلسہ گاہ کے پروگرام کے بارہ صاحب علم خواتین کی پیند یہ تقاریہ ہوئی۔منعقده ۲۰۱۱۹۱۸ ہزاروں احباب شریک ہوئے 19 ممالک سے نمائندہ سے تشریف معمول پر دو گرام کے علاوہ درج ذیل غیر ملکی نمائندوں نے بھی تقاریر کیں۔عبد الحمید را محبت (ماریشس، علی یوسف صاحب زنا نجیر یا طرا فرق صاحب جلسہ پر بعض ممالک سے احباب پہلی دفعہ جلسہ میں شرکت کے لئے تشریف ڈارون علی قاضی صاحب (ٹرینیڈا) ذاکر علیم صاحب زائد ونیشیا، طارق محمد شریف لائے۔مثلاً نائیجیریا اور سویڈن اس طرح 14 ممالک سے مہمان آئے۔ذوق و شوق صاحب زامریکی مصطفی ثابت صاحب (کینیڈا) منظفر احمد خلف صاحب زامریکہ ، عبدالله کا عالم دیدنی تھا۔سینکڑوں کے اجتماع میں روایتی روح پرور جلسہ ہوا۔جہد کہ آیا دادور صاحب (جرمنی) شفیع احمد صاحب در تنگه ریش ، محمد اکرم صاحب ریلیبیا، مائیکل کلارک صاحب (لندن) ڈاکٹر نظام الدین صاحب ر نائیجیریا) مدر اس سے ریزہ رو لوگوں سے سفر ہوا۔باقی کار روائی حسب معمول ہوئی۔