المحراب — Page 166
جبکہ متصورات میں ایک جرمن بہن نے حلقہ بگوش اسلام ہونے کے دلچسپ واقعات سنائے۔ناصرات الاحمدیہ کا پیر وگرام کبھی ہوا۔١٩٦٤ء منعقده ۲۶۰۲۵۰۲۴ منعقده ۲۰ ۲۱ ۲۲ فروری پاکستان اور ہندستان کی جنگ کی وجہ سے یہ جلسہ دسمبر میں ملتوی کرنا پڑا تھا اور بعد میں ماہ فروری میں یہ جلسہ ہوا۔اس جلسہ میں ہندوستان کے دور دراز علاقوں فلسطین، لندن، انڈونیشیا، گھانا، نائجیریا، یوگنڈا، بلاد عربی، در وس اور گنگارا سے سینکڑوں کی تعداد میں مہمان تشریف لائے۔ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش کے کے مربیان نے شرکت کی۔ہند دوستان بھر کے علاوہ پاکستان سے۔۔ار افراد کا قافلہ اور جزائر تھی سے مہمان لوگوں نے بھی شرکت کی۔منعقده ۲۰۰۱۹۱۸ دسمبر ۱۹۷۳ء آئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا پیغام محترم میر داؤ داحمد صاحب نے پڑھ کر سنایا۔مولانا ابو العطاء صاحب کی تقریر کا موضوع خلافت ثالثہ کی برکات " تھا۔پنجاب اندرون ملک کے دور دراز علاقوں کے علاوہ بیرونی ممالک بنگلہ دیش کے ایک سابق وزیر جنرل راجندر سنگھ صاحب نے جلسہ سے خطاب کیا۔ریڈ لو یا اندر تائجیریا، غانا، لندن، کینیا، اور کینیڈا سے خاصی تعداد میں احباب تشریف لائے۔سے نمائندے نے جلسہ کی کارروائی کا ریکارڈ ۲۹، اور ہو۔نومبر کو دوپہر کی نشریات محترم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق میں التبليغ مشرقی افریقہ ، مولانا منور احمد صاحب سابق مربی مشرقی افریقہ اور محترم مولانا فضل الہی بشیر صاحب بھی جلسہ سالانہ میں پیش کیا۔متفورات کا جلسہ مردانہ جلسہ گاہ کے قریب دارالانوار جانے والی سڑک کے پر تشریف لائے۔دوسری جانب ہوا۔محترمہ صدر الجند مرکز به والیوں کا پیغام محترمہ صدر لینہ بھارت نے سنایا خواتین کی حاضری۔۔بھتی۔منعقدہ ۸۰۷۰۶ جنوری ۱۹۶۹ء 1940 منعقده ۱۳ ۱۴ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء ہندوستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ انگلستان، ماریشس، افریقہ پاکستان اور بنگلہ دیش سے احباب تشریف لائے۔جلسہ حسب معمول جلسہ گاہ میں شریع صبح کا اجلاس جلسہ گاہ میں اور شام کا بیت اقصیٰ میں ہوتارہا۔جلسہ کے آغاز ہوا مگر بارش کی وجہ سے تیسرے دن بیست اقصٰی میں ہوا۔افتتاحی خطاب کے بعد میں مولا نا عبد الرحمان صاحب فاضل کی افتتاحی تقریر ہوئی بعد ازاں حضرت خلیفہ ایسیح مولانا عبید الرحمن صاحب فاضل الثالث کا پیغام میر داؤد احمد صاب نے پڑھ کرشنا یا۔المسیح الثالث کا پیغام سنایا۔مرزا عطاء الرحمن صاحب انگلستان، محرم عبد الرحمن صاحب آندھرا، محرم بشیر احمد صاب حضرت صاجزادہ مرزا وسیم احمد کی تقریر جماعت احمد بریں مقامات ماریشس، سردانہ نذیر احمد صاحب غانا افریقہ اور چوہدری عنایت اللہ صاحب تنزانیہ کے موضوع پر تھی۔جلسہ سالانہ مستورات ، جنوری کو ہوا۔دید ۱۲۳ ۳۰ جنوری (۱۹۹۹) نے ایمان افروز واقعات منائے۔اختتامی خطاب محترم صاحبزاده مربا وسیم احمد صاحب کا تھا۔۱۵ دسمبر کی رات حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی بست شاید کے سالانہ جلسوں کی ٹیپ سنائی گئی اس سال حیدر آباد سے پہلی بار احمدی احباب ریلوے ہوگی ریزرو کر کے آئے۔جلسہ سالانہ کے آخری دن دو بزرگ رفقاء درویش حضرت ڈاکٹر عطرالدین صاحب اور حضرت حافظ عبد الرحمن صاحب پشاوری وفات پاگئے۔جامہ مستورات میں دو دن پروگرام مردانہ جلسہ گاہ سے نشر کیا گیا۔۱۴ دسمبر کو ١٩٧٩ء منعقده ۲۰۰۱۹۰۱۸ دسمبر ۱۹ ہندوستان بھر کے علاوہ پاکستان سے ۸۰- افراد کے قافلے۔ایک سوئس احمدی اور جزیره سیلون کے ایک بزرگ نے بھی شرکت کی۔صدار کی تقریر " محترم حضرت مولانا عبد الرحمان صاحب فاضل نے کی۔بعد ازاں متفورات نے تقاریہ کیں۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا پیغام صوفی غلام محمد صاحب میر قافلہ نے پیش ہو کر منایا۔اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا دوسرا پیغام جو بذریعہ تار موصول ہوا مو لا نا شریف احمد صاحب امینی نے پڑھ کر سنایا۔منعقده ۲۱۰۲۰۰۱۹ دسمبر ۱۹۷۶ء حیدر آباد اور میسور سے ریلوے کی دو بوگیاں مہمانوں سے بھر کر آئیں۔بیڑی حضرت صاجزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی تقریر کا عنوان تھا دین حق زناقل) ممالک میں سے کینیڈا، ماریشس، سیلون، نائیجیریا، امریکہ اور بنگلہ دیش سے مہمان آئے۔مجھے کیوں پیارا ہے " ۱۸ دسمبر کی رات بیت مبارک میں ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی بیت الاقصی میں حضرت مسیح موعود کی کتب کے درس کا اہتمام بھی ہوتا رہا۔منعقده ۲۰۰۱۹٬۱۸ دسمبر ۱۹۷۷ ہندوستان کے مختلف صوبہ جات کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، جرمنی اور پاکستان