المحراب — Page 154
حضرت مسیح موعود کے رفقاء ناقل ہی جھنڈ بن جاتے توکیا اچھا ہوا میں نے حضرت مسیح جھنڈے کا پول :۔اس حال میں عمران کی بہت تورو خوض کرنا پڑا ای ی ی ی ی سال موعود کے منہ سے ایک ملین میں پیسنا ہے کہ ہمارا یک جھنڈا ہونا چاہیئے۔بھنڈ لوگوں کے جمعے کرنا پڑا کہ پاپ کرانے پر لیکر کام چلایا جائے کیو کے کڑھی ۲۲ فٹ لمبی خوبصورت در میامی این شکل ہونے کی ظاہری علامت ہے اور اس سے نوجوانوں کے دلوں میں ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے۔تھی اور اس کے گھڑنے کرنے کا سوال بہت ٹیڑھا تھا۔چونکہ وقت بہت تھوڑا تھا اسیکن حضرت با جو اکبر علی کی کوشش سے یہ کام خیر و خوبی انجام پا گیا۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ سے نوائے مایہ ہر سعید خوا ہ بود جھنڈے کی بناوٹ وغیرہ :۔جھنڈ اسیاہ رنگ کے کپڑے کا تھا جین کے درمیان یعنی میسے جھنڈے کی پناہ سر سید کو حاصل ہوگی۔اور اس لحاظ سے بھی ضروری ہے مین رو امسیح ایک طرف بدر اور دوسری طرف بلال کی شکل سفید رنگ میں بنائی گئی تھی۔کپڑے کہ ہم اپنا ٹھنڈا نصب کریں تا سعید رو میں اس سے نیچے اگر بنا لیں۔یہ ظاہر سی نشانی بھی بہت کا طول اٹھارہ فٹ اور نوفٹ تھا اور اسے بلند کرنے کیلئے جس کے اسٹیج کے شمال مشرقی کونہ اہم چیریں ہوتی ہیں۔کے ساتھ باسٹھ فٹ بلند آہنی پول پانچ فٹ چو تو بتا کر نصب کیا گیا تھا۔دوسم پر اس کو صبح سے خلافت جوبلی کی مبارک تقریب کا پروگرام شروع ہوا۔تمام لوائے احمدیت کی تیاری میں حضرت مسیح موعود حضور اقدس کے فیصلہ مشاورت لوائے احمدیت لہرائے جانے سے پہلے جماعت وار اپنے اپنے ک کے برتقاء اور رفیقات ناقل کی مالی قربانی کی تعمیل میں کمیٹی نے رفقائے کرام جھنڈوں کے ساتھ جلسہ گاہ میں داخل ہونے کا خطاره احضرت مسیح موعود اسے چندہ کی اپیل کی اور اس فنڈ میں دفتر محاسب (قادیان کے پاس تیس روپے آٹھ آنے تین پیسے جمع ہوئے لیکن محسوس کیا گیا کہ اخراجات اس سے بہت زیاد جماعتیں راہ ھے تو بجے اپنی اپنی فرودگاہ سے جلسہ گاہ کی طرف آنے لگیں ہر جماعت کے ساتھ اس ہوں گے۔اس لئے مزید روپے کے لئے دوبارہ اسپیل شائع کی گئی، اور ایک خاص محصل کے کا جینڈا تھا جسے دو آدمی اٹھائے ہوئے تھے اور جس پر اس جماعت کا اہم اور بعض دعائیہ خفرات ذریعے کوشش کی اور قادیان اور اس کے ارد گرد کے علاقہ میں ان دنوں جو رفقائے۔۔نا قتل لکھے تھے۔اس طرح مختلف علاقوں اور تخلف مالک کی جماعتیں دورنہیں سکے اشعار پڑھتی، اور حضور آن میں موجود تھے اُن سے خاص طور پر چار نے بہک کی رقم فراہم کی گئی اور بعض نے اس سے خدا تعالی کے حجم کے گیت گاتی ہو نہیں جلسہ گاہ میں پہنچے ہیں۔تمام جن سے ملے گا ہی گیروں کے دور کے حصہ میں کھڑے کردیئے گئے ایسے بندوں کی بھی زیادہ رقم عطافرمائی اس طرح ایک مومنین اسے ارب روپیہ جمع ہوگیا لوائے احمدیت کیلئے رفقائے کرام کے روٹی کی خرید کے متعلق حضرت خلیفہ پالیسی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب تھی۔(تاریخ احمدیت جلد چہارم مل ) ہاتھوں کاشت کردہ روٹی الثانی کی خواہش تھی کہ اگر ایسی کہ اس مل جائے جلس گاه امین حضرت خلیفتہ ایسی اشانی نوراللہ مرقدہ کی تشریف آور می :۔اس بچے کو سیاسی انٹ بجے حضرت مسیح موعود کے اقبال اقل نے کاشت کیا ہو تو بہت اچھا ہو۔با حضور اقدس ایٹین پرتشریف لائے۔اس وقت ہی کا سانا اتار دیاگیا کہ تمام میں آسانی سے اللہ تعالیٰ نے حضور کی اس مبارک خواہش کو پورا فرمایا اور وہ اس طرح کہ حضرت میاں اسی پر وقار موفقہ کا نظارہ کر سکے۔فقیر محمد امیر جماعت احمدیه و نجوان منابع گورداسپور جو حضرت مسیح موعود کے رفیق تھے قادیان لوائے احمدیت بلند کیا گیا ہے حضرت خلیفہ ایسے الانی نورالہ مرقدہ اسی سے اتر کر دو جبکہ تشریف لائے اور کچھ سکوت حضرت اماں جان کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کیا کہ میں نے حضرت منٹ میں چوترہ کے پاس تشریف لائے اور بابا نام احباب ربنا تقبل منا ا لكَ أنتَ السمع مرزا بشیر احمد صاحب سے ارشاد کی تعمیل میں اپنے ہاتھ سے بیج بویا اور پانی دیتا رہا۔اور پھر چھت اور العبید کی دعا پڑھتے رہیں۔رتا ہے۔انا قلم حضرت مسیح موعود سے دھوایا اوراپنے گھرمیں اس کو تو کیا یہ شدت پہنچنے پر یہ دعا پڑھتے ہوئے اور اس نظارہ سے متاثر ہو کر بیٹوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور تمام حضرت مولانا عبدالرحیم اردو سیکرٹیری خلافت کمیٹی نے امیر جماعت احد یہ دونوں کو پیغام بھیجا مجمع پر رقت طاری ہوگئی جضورا تاسی یی د ما رقت انگیز آواز میں آواز بلند پڑھ رہے تھے۔لیٹے ہوئے کہ ان کے پاس اگران کی کاشت کی ہوئی روٹی میںسے کچھ اور ہوتو بھی بھجوادیں ہیں پرحضرت بھائی پھر رہنے کے کھلنے کے بعد حضورنے اللہتعالی کی کرائی کے نعروں کے درمیان جھنڈے کی رسی کھینچا عبد الرحمن قادیانی کے ذریعے مزید آٹھ دس سیر کوئی قادیان پہنچ گئی، جومحترم مولانا درک نے حضرت ارا کیا اور ان کے سروں کے دوران ہی پوری طرح بندی سیده ام عامر جنرل سیکریٹری جنہ اماءاللہ کی خدمت میں اس درخواست کے ساتھ بھیجے دی پر پہنچ گیا۔کہ وہ رفیقات ناقل حضرت اقدس کے ذریعہ حضرت اقدس کے ارشاد کے ماتحت اس قدرت الہی کا ایک عجیب کو شمہ ، جھنڈے کے بلند ہوتے وقت ہوا بالکل ساکت تھی اور روٹی کا سوت تیار کروالیں، چنانچہ انہوں نے نہایت مستقدمین کے ساتھ دار المسیح موعود میں جھنڈا اور پر ایک اس طرح پیٹا ہو گیا کہ اس کے نقوش نظر نہ آسکے تھے لیکن اس کے اوپر پہنچتے ہیں در فیقات۔۔۔ناقل سے سوت کوایا جس سے رفیق ناقل بافندگان کے ذریعے قادیان اور ہوا کا ایک ایسا جھونکا یا کہ پورا ہنڈا کھال کو پرانے لگا اورتھوڑی دیر کے بہ جب تمام مجھے نے اچھی تونڈی میں کپڑا بنوایا گیا۔ان ارتقاء ناقل) میں سے ایک بزرگ حضرت میاں خیر الدینے طر دیکھ لیا تو ہو پھر تھم گئی اور حضرت مہینہ میں لال ہونے والے احمدیت اپنے دست مبارکہ سے دری باف بھی تھے۔(تاریخ احمدیت جلد ہشتم ص۵۰) ور نیکی کس منٹ پر رسی سے باندھا ۲۰ کیکر گیارہ منٹ پر بند کرا شروع کیا اور حضور کے ہاتھوں کی تین مرتبہ کی جنبش سے ۲ بیکر بارہ منٹ پر تھنہ پھول کا انچائی تک پہنچا و میکروم منٹ پر حضور نے جھنڈے