المحراب — Page 153
لوائے احمدیت اور جب لانہ لوائے ما مینہ برسعید خواهد بود ندائے فتح نمایاں بنام ماشد حضرت مسیح موعود جھنڈ کسی بھی قوم کی سربلندی، عظمت اور وقار کے اظہار کی علامت ہوتا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر جلسے کے فتاح سے قبل لوائے احمدیت (جماعت احمدیہ کا جھنڈا) کا لہرایا جانا ایک اہم تقریب ہوتی ہے۔اس روایت کا آغاز تاریخ احمدیت میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھنا ہے۔ذیل کی سطور میں پہلے ہوائے احمدیت کی تیاری کے مراحل اور اس کے لہرائے جانے کی تقریب کی روداد بیان کی جارھی ھے۔جسے بشیر الدین صاحب عباسی نے طرح را ناقل ہی اپنی سی کی تراش کرلائیں۔پھر اس کو باندھنے کے بعد جماعت کے نمائندوں کے سپرد کر دیا جائے کہ یہ ہارا اہل قومی جھنڈا ہے۔سچر آئندہ اس کی نقل کروائی جائے۔اس مستانہ میں جماعت احمد ی نے اپنے دینی مرکز قادیان دارلامان میں سلسلہ عالیہ حمدیہ طرح جاعت کی روایات اس سے اس طرح والبتہ ہو جائیں گی کہ آئندہ آنے والے لوگ اس کیلئے کے قیام کے سچا اس سال پورے ہونے ہستید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفه آین ہر قربانی کے لئے تیار ہوں گے (تاریخ احمدیت جلد ہشتم میده) انی توانا مراد کی عمر کے پاس سال کی پانی اور حضور ہی کے عہد خلافت کے چالیس سال پورے لوائے احمدیت کی تیاری کا کام یہ کمیٹی کے سامنے جو کام دیشی تھے۔ان میں سے ہو جانے کی خوشیاں جوبلی کی شکل میں منانے کا پروگرام مرتب کیا گیا اوراس طرح تین جو بلیاں شان و اہیم لوائے احمدیت کا تیار کرتا تھا جس کے مندرجہ ذیل پہلو قابل غور تھے۔جھنڈے کے ڈیزائن مینی شکل کا فیصلہ۔شوکت سے منائی گئیں۔ہوئی کے پروگرام کی تشکیل و تکمیل کے لئے ایک سب کمیٹی حضرت ڈاکٹر میر ھہ اسٹیل کی حضرت مسیح موعود کے الیہ فقار اور رفیقات۔۔۔ناقل سے جھنڈے کے اخراجات صدارت میں بنائی گئی عمران میں حضرت مرزا بشیر احمد حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد خلیفہ اب الثالث) اور حضرت مولوی عبدالمغنی شامل تھے اور کمیٹی کے سیکریٹری حضرت مولانا کے لئے چیت ہ وصول کرنا۔عبد الرحیم درد مجھے کمیٹی نے اس تجاویز پر شمال چارٹ تیار کر کے میں مشاورت شکار میں نظارت : اللہ سے کپڑا تیار کرنا تالیا کی سب کمیٹی کو پیش کیا۔ان تجاویز میں نوائے احمدیت کی تجویز بھی شامل تھی کہ جماعت احمدیہ کی کوئی مناسب جیندا متقدیر کیا جائے جسے باقاعدہ طور پر اس جاہلی کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے نصب کرانے کی درخواست کی جائے۔لوائے احمدیت سے متعلق تجویز کی منظوری :۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خلافت جوابی سے تعلق سب ہی کی ہر ضروری تجویز پر عام سے مشورہ کر کے فیصلے فرمائے، چنانچہ احمدیت کے جھنڈے کی نسبت فرمایا :- جھنڈے کی مبائی چوڑائی کا فیصلہ کر کے اس کو توانا۔پول تیار کرنا۔:- جھنڈ سے کا نصب کرنا۔ے یہ اس کو لہراتا۔جھنڈے کے بارے میں مندرجہ بالا اور اپنی نوعیت کے لحاظ سے کافی دقت طلب تھے اریم کیٹی کے لئے بالکل نئی قسم کا تھا۔اس نئے ہر مرحلہ پر اور آخر وقت تک کمیٹی کو خلقت تم یہ تو ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلیم کا جیندا قائم کیا جاتا تھا۔بعض لوگ تو کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی تنوراللہ مرقدہ نے اس کے لئے ایک کمیٹی مقرر فرما کتی کہتے ہیں کہ اب تک ترکوں کے پاس رسول کریم صلی الہ عیہ وسیم کا جھنڈا موجود ہے۔اس لئے اس زمانہ میں بھی جو ابھی احمدیت کا ایت رائی زمانہ ہے۔ایسے مینڈ سے کا بنایا جاتا اور قومی نشان قرار دیا حسین کے ممبران حضرت مرزا بشیر احمدایم اسے حضرت میر محمد آفق اور حضرت حافظ صا حبزادہ جماعت کے اندر خاص قومی جوش پیدا کرنے کا موجب ہو سکتا ہے۔میرا خیال یہ ہے کہ حضرت مسیح مرزا نا صراحہ (خلیفہ المسیح الثالث) تھے۔اس کمیٹی نے نومبر میں اپنی رپورٹ تیار کر سکے کبھی جو موعود کے ارتقاء۔۔۔ناقل سے پیسہ پیسہ یا فصیلہ دھیلہ کو کے مخصوص ( رفقاء۔۔۔ناقل سے حضور کی خدمت مبارک میں میں کی گئی اور یا آخر حضو نے جھنڈ سے کی ایک معین شکل نظر فرمائیے ایک مختصر سی رقم لے کر اُس سے روٹی خریدی جائے اور درحقیقات۔۔۔ناقل) (حضرت اقدس) احمدیت کے جھنڈے کی اہمیت :۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ اگر آب کو دیا جائے کہ وہ اس کو کا تیں اور اس موت سے رفیق۔۔۔ناقل در زمی کپڑا تیار کریں۔اسی ہم لوگ کوئی جھنڈا میں نہ کر یں گے تو بعد میں آنے والے ناراض ہوں گئے اور کہیں گے کہ اگر