المحراب

by Other Authors

Page 123 of 167

المحراب — Page 123

سے گھبراہٹ طاری رہتی ہے کہ کوئی غلطی نہ ہو جائے۔اس غلطی نہ کرنے کی شعوری عمدگی اور وضاحت سے دیئے۔کوشش سے بہت سی دلچسپ غلطیاں بلکہ یک سلو میاں سرزد ہو جاتی ہیں۔حضور سے ایک سوال نظار روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے۔حضور نے فرمایا اس کی ابتداد وہ ہمیں سے ہوتی ہے جہاں سے قرآن کی ابتداء تعارف کروانے میں ایک عہدے دار کہ ایک نمبرسے کہنا تھا کہ اپنے باپ کا پورا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى نام تباد ، مگر وہ جلدی جلدی کہہ رہی تھیں وہ اپنے پور سے باپ کا نام تناؤ ایک ممبر تے ایجنڈا پڑھا حضور تھے الفاظ کا تلفظ درست کروایا حتی الوسع تسقيت منقبوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے گویا ہر نیکی اور ہر ہدایت بر رشد اور ہر پاکیزگی کا دارو دار تقویمی پر ہے۔تقوی کے بہت سے معنی ہیں اور جدو جہد ان الفاظ کا تلفظ تو درست ہو گیا مگر اب حتى الامكان درست پڑھنے کی کوشش میں یہ محترمہ ہر دفعہ جلسہ کو جائکہ پڑھنے لگیں حضورمسکرائے آغاز میں تقوی کا معنی یہ ہو گا کہ ایک ایسا شخص جو سچائی کو اختیار کر تے میں کوئی اور فرمایا " اب میں کوئی غلطی نہیں نکالوں گا پاک نہ رکھتا ہو جس کی فطرت میں اتنی صفائی ہو کہ وہ ضد اور تعصب کے نتیجے میں ایک خاتون اپنی عرضداشت پیش کر تی ہوئی کہ رہی تھیں۔یہ یکھیں اس سچائی کو جھٹلایا نہ کرتا ہو ایسا شخص دنیا میں جہاں کہیں ہوگا اسے ہدایت ملے گی۔لئے ڈیرا نہ ہی ہوں تاکہ آپ کو یادر ہے۔حضور نے اُن کے الفاظ یاد یہ ہے شلاً مغرب نے سائنس میں جب سچائی کو اختیا کیا خدا کی قدرت کا مشاہدہ ان کو دہرائے اور مسکرا دیے۔منظم خواتین کی بوکھلاہٹ دیکھ کر حضور محفوظ ہوتے اور جس طرف لے گیا ان کے تجربات اور مشاہدات کا رخ بھی اسی طرف پلٹ گیا نتیجتاً دلچسپ جملوں سے حوصلہ افزائی فرماتے۔ایک لڑکی نے اپنا نام حمیرا بتایا تو آپ نے اللہ تعالی کے فضل سے ان کی کوششوں کو بڑے بیٹھے پھل لگے پس جو تعدا د نیا فرمایا جانتی ہو اگر تم اپنا نام گولہ سے لکھو حمیرہ تو اس کا کیا مطلب ہوگا ؟ اس کا مطلب میں سچائی کی جزا نہ دیتا ہے وہ دین میں تبہ اس سے بڑھ کر جزاء دیتے والا ہے۔اُن لئے دین کی ہر ترقی کے لئے تقوی کی چاہی رکھ دی گئی۔حضرت مسیح موعود نے اس ہو گا چھوٹی سی گدھی۔ایک خاتون نے اپنی بچی کا نام رکھوایا۔آپ نے فرمایا عطیہ المتین رکھے لیں مگر اس خاتون کے چہرے پر صوم ما استعجاب دیکھ کر فرمایا " مشکل لگتا ہے مضمون کو بڑے پیار سے انداز میں یوں بیان فرمایا ہے۔امتہ المتین رکھ رہیں یا ایک خاتون نے اٹھ کر کہا حضور آپ نے میرے خط کا جواب نہیں رہا۔حضور نے فرمایا آپ نے خط کیسے لکھنا شروع کیا تھا یا اُس میں کیا لکھا ہر اک نیکی کی جٹہ یہ انتقام ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ : رہا ہے۔اس لئے اگر انسان اپنی تربیت کی خاطر سچائی کو پکڑے سچائی جہاں سے تھا۔اس نے چند مجھے بولے تو حضور نے فرمایا نہ ایسا خط مجھے نہیں ملا ہ ندا تعالی حضور کی جاتی ہے۔خواہ کتنی ہی تلخ حقیقتوں کی طرف لے کہ جائے وہ ساتھ پھلنے کے لئے آمادہ یا دراشت میں کروڑوں گنا برکت ڈالے اس وقت سب حیرت زدہ رہ گئے عالمگیر ہو جائے۔سچائی ہیو قربانی مانگے وہ قربانی دینے کے لئے تیار ہو جائے تو اسی کا ہم جیھانی جماعت کا اما سینکڑوں خطو ر روزانہ پڑھنے والا اور ایک خاتون سے چند جملے پاکیزگی ہے پھر اس پاکیزگی پر مزید خوبصورت جگ چڑھتے جاتے ہیں اور انسان ایمانیت سن کہ علم ہو گیا کہ اس قسم کا خط آپ کو نہیں ملالہ سبحان اللہ خدا تعالے جب کسی نہیں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔خرد کو کوئی کام سونپتا ہے تو صلاحیتیں بھی عنایت فرماتا ہے۔نمبرات نے شادی بیاہ میں رسوم وغیرہ کے متعلق کئی سوالات کئے جن میں سے حسب پروگرام ۱۹ فروری لجنہ اماءاللہ کراچی کی قیادت نمبر 4 ایک سوال یہ تھا کہ کیا لڑکی کی رخصتی پر حقیقہ کے نام سے بڑے پیمانے پر دعوت کو ملاقات کا موقع دیا گیا۔حاضری اندائرے سے بہت زیادہ رہی۔کار فروری کرنا جائز ہے ؟ حضور نے فرمایا بات یہ ہے کہ احکامات کی روح کو دھو کہ باڑی اورہ کی ملاقات میں جو نمبرات کسی وجہ سے حاضر نہ ہوسکی تھیں اور جو ایک دفعہ کی ملاقات ہو زیارت کے بعد تشنہ واپس گئی تھیں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لائیں۔کچھ مرات غیر از جهات حیلے بہانے سے ناکام کرنے کی کوشش فی قامت ہے ایک بڑا مکروہ فعل ہے اصل بات بہنوں کو ہمراہ لائیں اس طرح 19 فروری کو گیسٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں تل دھرنے یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ چاہتے تو یہ ہیں کہ بیٹی کی شادی پر کی جگہ نہ رہی ملاقات کے کروں یہ آمدہ اور اندرونی گزر گاہوں میں خواتین کے بیٹھنے کھانا کھلائیں لیکن نظام جماعت کی صرف گیری سے بچنے کے لئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقے اور لاوڈ سپیکروں سے آواز پہنچانے کا اہتمام کیا گیا۔حضور کے تشریف لانے سے قبل کے نام پر بہترین بہا نہ ہاتھ آگیا ہے اب اگر اعتراض ہو گا تو کہ دیں گے یہ تو بچوں سوالات جمع کر لئے گئے تھے۔حضور تے ان دو مینوں سوالات کے جواب بڑی بجنگی کا عقیقہ ہے۔یہ نفس کا محض دھوکہ ہے یہ اسی قسم کا بہانہ ہے جس کے متعلق قرآن ۱۳۱