المحراب

by Other Authors

Page 122 of 167

المحراب — Page 122

4 انفرادی ملاقاتوں کی بجائے اجتماعی طور پر سب خواتین کو دے دیا۔یہ طالق ہے حد نہ جائیں تو غیر از جماعت لوگ کہتے ہیں ان کا قرآن اور ہے۔پن کیاگیا اور زیادہ فائدہ مند ثابت ہوا کراچی کی تنظیم لجنہ اماءاللہ کے تحت اس وقت سات تیار نہیں تھیں۔پہلی چار قیادتوں کی ملاقات پچودہ فروری اور گیسٹ بادیس حضور نے جوا با فرمایا جو لوگ کہتے ہیں کہ ان کا قرآن پاک اور ہے ان کو اپنے گھر بلا کر پڑھ کر کے بہنزہ نام پہ ہونا قرار پائی۔سنا دیا کریں اس میں کون سی مشکل ہے۔باقی رہا دفات شدہ پر قرآن خوانی کرنا تو جس طرح دل کی ایک دھڑا ان کے ساتھ حرکت کرتا ہوا اخون رگ وپے ہم اس لئے اس میں شامل نہیں ہوتے کہ یہ ایک بدعت ہے اور یاد رکھیں ہمیشہ کے آخری سروں تک پہنچ کر وائیں سمٹ آتا ہے۔اسی طرح صد یہ صاحبہ لجنہ کیا چی کی بد عنوں نے ہی مذاہب کو تباہ کیا ہے۔جماعت احمد یہ اس اصل چشمه رشد و ہدایت طرف سے جاری ہونے والا اعلان قیادتوں کی نگرانوں سے حلقوں کی صدر وں تک کی طرف لوٹ رہی ہے جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب صافی سے اور پھر سب ممبرات تک پہنچ گیا اور وقت مقررہ پر میرات ذوق نہ مشرق کے ساتھ چھوٹا تھا وہی ہدایت کا سرچشمہ ہے باقی ساری بعد کی ملا دیں ہیں۔مقام عقور ہے ہوتی در یون گیسٹ ہاؤس پہنچنے لگیں۔حسین انتظام سے زیادہ اس ہستی کی کشش آنحضرت کے وصال پر نہ فاتحہ پڑھی گئی ہ قرآن خوانی ہوئی نہ چالیسواں ہوا اور بینم کا دخل تھا۔جس کے دیدار کی خواہش ہر دل میں موجنون رہتی ہے۔کچھ اور اگر ان باتوں میں کوئی حقیقت ہوتی تو ان کے سب سے زیادہ حقدار آنحضر حقہیہ کی آمد سے پہلے سوالات جمع کر لئے گئے تھے۔یہ سوال زیادہ تر تھے۔غیر از جماعت سوسائٹی میں معاشرتی حسن کم ہو چکا ہے۔اور تم قرآن فاتحہ زندگی میں پیش آنے والے عمومی مسائل کے متعلق تھے۔مگر جب مقبوبہ نے منہم تخوانی گیارہواں ، چالیسواں اور نہ جانے کیا کیا چیز یں مذہب بن گئی ہیں۔جن کا قرآن شفیق چہرے کے ساتھ سمجھا سمجھا کہ جواب دینے شروع کئے تو خواتین کا حوصلہ حدیث سنت اور اسوہ رسول اور اسوہ صحابہ سے اشارہ تک نہیں ملتا حضرت بڑھا جس طرح بچہ اپنی ماں کا اچھا موڈ دیکھ کہ اگلی پچھلی فرمائشیں کرنے لگتا ہے اور مسیح موعود نے اگر حقیقی دین پیش کیا ہے اور رسم ورواج کی لعنتوں سے اپنے چھوٹے چھوٹے دُکھ بیان کرنے لگتا ہے اور اچھے موڈ سے چھڑوایا ہے اور آنحضرت کے اسوہ کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔اس لئے لومتر لائم جرات پا کر اپنی ہر بات کہہ ڈالنے کا لطف لیتا ہے۔بالکل اسی طرح بعد میں کی پر داہ کئے بغیر اپنی اقدامہ کی حفاظت کریں۔سوال بالکل ذاتی اور گھر یلو مسائل کے متعلق آنے لگے ساڑھ سے دس بجے سوال و جواب آپ نے فرمایا۔سوالات کے جوابات دیتے دیتے ڈیڑھ بج گیا ابھی سوال ختم نہیں کا سلسلہ شروع ہوا سب سے پہلے حضور نے ایک خاص امر کی طرف توجہ دلائیے ہوئے تھے نماز ظہر کا وقت ہو گیا اس لئے یہ دلچہ پے سلسلہ ختم کرنا پڑا۔غیر معمولی داغتری کی وجہ سے منتظم خواتین کی دوڑ دھوپ کی۔آقا نے قدر دانی فرماتے ہوئے ایک بات میرے علم میں آتی ہے کہ منظمات نے ایسی خواتین کو مجلس میں آنے انہیں دوپہر کے کھاتے میں شریک کیا۔حضور اپنے ہاتھ سے روٹی توڑ کر تقسیم فرماتے نہیں دیا جنہوں نے چادر اور دو رکھی تھی فرمایا الاِمَامُ جَنَّةٌ يُقَاتَك ر ہے۔خواتین نے درخواست کی ہم آپ کی دعوت کرنا چاہتے ہیں فردا فردا تو میں کور آیه امام ڈھال ہوتا ہے اس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے آگے نہیں ممکن نہیں ہم سب کھانا پکا کہ یہاں لے آئیں گے اور مل کر کھائیں گے بحضور نے میں نے پردہ کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں ان کی روح کو سمجھ کر میرے پیچھے منظور فرمایا۔اور فرمایا کہ کھانا ز یادہ HEAVY نہ ہو اور یہ کہ اپنے خاوندوں کو پیچھے چلنا چاہیئے جذبہ شوق میں آگے نہیں بڑھنا چاہیئے اس سے بعض دفعہ فائدہ بھی ساتھ لائیں۔اس پر عہد سے داران میں سے بعض نے پو چھا کہ آپ ہی بتائیں ہم کی بجائے نقصان پہنچ جاتا ہے۔میرے ذہن میں ایک ترتیب ہے کہ حکمت عملی کیا پکا کر لی ہیں۔خورشید عطاء صاحبہ سے مخاطب ہو کہ فرمایا آپ تو ماش کی دال محبت اور پیار کے ذریعہ قرآن اور احادیث کی تشریحات کے ذریعہ احمدی خواتین لائیں آپ کی امی دال بہت اچھی پکاتی تھیں۔کو جو ماشاء اللہ یری بالغ نظراور سمجھ دار ہیں ان کوسمجھ کر واپس لایا جائے اور وہ مجلس عرفان اور نماز عشاء کے بعد خواتین سے ملاقات کا سلسلہ جاری بطیب خاطر پر دہ کرنے لگیں ورنہ نظام کے خوف سے بنو تبدیلی آتی ہے وہ بسا اوقات رہنا خواتین جی بھر کے اپنے آقا کی زیارت کرتی اور تعارف و سوالات کا سلسلہ مشکلات کا موجب بن جاتی ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں رفتہ رفتہ تبدیلی آئے۔تیاری ہو جاتا۔ایک بہن نے یہ سوال کیا کہ کوئی غیر از جماعت شخص فوت ہو جاتا ہے تو جنہیں حضور کے بہت قریب کچھ پڑھنے یا کہنے کا موقع ملتا ہے وہ لوگ قرآن شریف پڑھنے کے لئے بلاتے ہیں کیا وہاں جا کر قرآن خوانی جائز ہے اگر مخوبی جانتی ہیں کہ حضوبہ کی شفقتوں کے احساس کے باوجود ایک رجب کی کیفیت