المحراب

by Other Authors

Page 124 of 167

المحراب — Page 124

کریم میں تنبیہہ موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بل الانساب عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَة وَلَوْ القَى ز القیامه آیت ۱۵ ۱۱۶) مَعَاذِيره و یعنی ہر انسان خواہ کتنے ہی عذر پیش کرے وہ اپنی نیتوں اور اپنے اعمال کی کنہ کو جانتا ہے۔سے توانا۔مکتوب شامل اشاعت ہے یہ دلچسپ محفل کا ا سے کہ انکے دوپہر تک جاری رہی ابیا در چنوں سوالات باقی تھے جو وقت کی تنگی کی وجہ سے تشنہ جواب رہے۔فروری دوپہر کے کھانے کے وقت گیسٹ ہاؤس میں ایک دعوت طعام کا انتظام کیاگیا لجنہ کمیٹی کی صدر صاحبہ اور ممبرات اور ان یلہ سازی کا طریقہ تقوی کے خلاف اور موجب ہلاکت ہے؟ کے خاوند ارجن کے خا ن نہیں تھے ان کے مدا قار لجنہ کراچی کی ساست پھر حضور نے یہود کی آرائش کے لئے سبت کے دن کے احترام میں قیادتوں کی نگران اور ان کے علاوہ چند دیگر خواتین جوسلسل کے کاموں میں پیش پیش رہتی ہیں حیلہ سازی اور حضرت طالوت کے شکر کہ پانی پینے سے مناہی کے باوجود پانی پیش رہتی ہیں وہ اور اُن کے میاں کھانے کی دعوت پر اکٹھے ہوئے حضرت سیدہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی کی یہ خواہش اس دعوت کا سبب بنی ارجن رام الله پی لینے کی مثال دے کر فرمایا۔پس احکام خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے ان کے پس پردہ جو روح کا فرار کراچی کی عہدے داران ان دنوں جماعت کی تبلیغی اور تر مینی امور سے تعلق حضور ہوتی ہے اس کے بگاڑ سکے نتیجہ میں خطرناک نتائج یہ آمد ہوتے ہیں یا ایدہ اللہ تعالے کی ہدایات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان تھک محنت کر رہی ایک خاتون نے پوچھا اگر عورت برقع پہننا چاہیے اور شوہر ا جازت ہیں ان کی حوصلہ افزائی کے لئے کوئی دعوت ہونی چاہیے چنا نچہ لجنہ کراچی کی نہر سے تو کیا کرے حضور نے جواب دیا ایسے شوہر کے متعلق مجھے چھٹی لکھیں اب عید بیداران نے ایک ایک خوش تیار کی۔وہ کہاں گی کہ اگر چھٹی دیکھنے کی اجازت دے اگر ایسا ہے تو پھر خدا سے شکایت کریں اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ایک سوال تھا کہ میک آپ میں نماز جائز ہے۔مردوں کے ساتھ حضور نے کھانا تناول فرمایا اور نمرات بحسنہ کے ساتھ حضرت سیدہ بیگم صاحبہ نے اس طرح جہاں اس موقع پر بھی جنات کی مخلصانہ جدو جہد کو سراہنے کا بہترین رنگ میں اظہار ہوا وہاں کھڑا جمیعا کی ایک منفرد مگر دلچسپ جواب تھا اللہ تعالئے نا محرم نہیں سیک آپ میں نمازہ جائز ہے۔بڑی دلچسپ اور بائیہ کت تقریب ثابت ہوئی۔) ایک بہن کو یہ میری بھی کہ کہیں نیل پالش سے نو نہ ٹوٹ جاتا ہو۔حضور نے فرمایا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نیل پالش سے وضو نہیں ہوتا غلط راسی دن سوا پانچ بجے شام گیسٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں خواتین کی کہتے ہیں ان کو خیال ہے کہ ناخن کو پانی نہیں لگتا یہ محض لغو باتیں ہیں جو لوگ یہ ایک مجلس سوال وجواب منعقد ہوئی جس میں سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے غیر از جماعت خواتین کے متعد د سوالوں کے جواب دیئے سوالات کہتے ہیں ان میں سے بعض اپنے گندے رہتے ہیں کہ ان کے اوپر نیل پالش سے کرنے والی مہمان توانین میں کالجوں کی چند پر و فیسرز اور سیر طالبات بھی شامل موٹی نہ خلافت کی بڑھی ہوتی ہے ان کا وضو بھی ہو جاتا ہے غسل بھی ہو جاتا تھیں۔اس مجلس میں بڑی دلچسپ اور پر مغز گفتگو ہوئی جو سات بجے شام تک ہے پھر یہ بے چاری نیل پالش ہی ہے جو ان کا حصہ نہیں ہونے دیتی یہ سب جارہی رہی۔اس کے بعد مہمان خواتین کو چائے پیش کی گئی۔اس دوران بھی بعض قدمات ہیں۔سنجیدہ مسائل پر گفتگو کے دوران ایک بچی نے پوچھا۔حضور بھنویں بنانا جائز ہیں ؟ حضور نے برجستہ ڈرایا بھنویں بنائیں لیکن باتیں نہ بنائیں۔خوانین گیسٹ ہاؤس کے اندر جا کہ حضورہ سے مزید سوالات کرتی رہیں چنانچہ ایک کے بعد دوسرے سوال کا جواب دیتے دیتے رات کے آٹھ بج گئے۔ایک خاتون نے بیعت کی خواہش بھی ظاہر کی۔اس مجلس کی ایک اور قابل ذکر بات یہ بھی تھی کہ ان دنوں کرا چیا کے اس ہلکے پھلکے سوال جواب سے خوشگوار کیفیت پیدا ہو گئی۔بعد میں بعض علاقوں میں رات کو کرفیو لگ جاتا تھا چنانچہ دوران گفتگو حضور نے جب اس بچی نے حضور کی خدمت میں خط لکھا کہ میرے سوال کا جواب سن کر سب نہیں یہ اعلان فرمایا کہ جن خواتین نے ایسے علاقوں میں جاتا ہے۔جہاں کرفیو لگنے کا وقت دیئے اس طرح مجھے خفت اٹھانی پڑی مشفق آقا نے اس بچی کو بعد میں بہت قریب ہے وہ بے ٹھیک تشریف لے جائیں تو بعض خواتین بادل نخواستند مجلاس سے طویل مکتوب تحریر فرمایا اور مسئلے پر علمی بحث کے ساتھ ہے حمد بہایہ بھری دعاؤں اٹھ کر چلی گئیں لیکن اکثریت بیٹھی رہی اور ان کی طرف سے ڈھیروں سوالات ۱۳۲